فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 611

فقہ المسیح — Page 366

فقه المسيح 366 حلت و حرمت نشہ آور چیزیں مضر ایمان ہیں فرمایا: حدیث میں آیا ہے وَمِنْ حُسْنِ الْإِسْلامِ تَرُكْ مَالَا يَعْنِيهِ یعنی اسلام کا حسن یہ بھی ہے کہ جو چیز ضروری نہ ہو وہ چھوڑ دی جاوے۔اسی طرح پر یہ پان، حقہ، زردہ ( تمباکو ) افیون وغیرہ ایسی ہی چیزیں ہیں۔بڑی سادگی یہ ہے کہ ان چیزوں سے پر ہیز کرے کیونکہ اگر کوئی اور بھی نقصان اُن کا بفرض محال نہ ہو ، تو بھی اس سے ابتلا آ جاتے ہیں اور انسان مشکلات میں پھنس جاتا ہے مثلاً قید ہو جاوے تو روٹی تو ملے گی لیکن بھنگ چرس یا اور منشی اشیاء نہیں دی جاوے گی یا اگر قید نہ ہو کسی ایسی جگہ میں ہو جو قید کے قائم مقام ہو تو پھر بھی مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں۔عمدہ صحت کو کسی بے ہودہ سہارے سے کبھی ضائع کرنا نہیں چاہیے۔شریعت نے خوب فیصلہ کیا ہے کہ ان مضر صحت چیزوں کو مضر ایمان قرار دیا ہے اور ان سب کی سردار شراب ہے۔یہ کچی بات ہے کہ نشوں اور تقویٰ میں عداوت ہے۔افیون کا نقصان بھی بہت بڑا ہوتا ہے۔طبی طور پر یہ شراب سے بھی بڑھ کر ہے اور جس قد رقوئی لے کر انسان آیا ہے اُن کو ضائع کر دیتی ہے۔تمام نشہ آور اشیاء کے استعمال کی ممانعت فرمایا: ( الحکم 10 جولائی 1902 صفحہ 3) ہر ایک نشہ کی چیز کو ترک کرو انسان کو تباہ کرنے والی صرف شراب ہی نہیں بلکہ افیون، گانجا، چرس، بھنگ، تاڑی اور ہر ایک نشہ جو ہمیشہ کے لئے عادت کر لیا جاتا ہے وہ دماغ کو خراب کرتا اور آخر ہلاک کرتا ہے سوتم اس سے بچو۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 70،71)