فقہ المسیح — Page 360
فقه المسيح 360 حلت و حرمت جس پر لفظ خنزیر گواہ ناطق ہے اور یہ معنے جو اس لفظ کے ہیں۔یعنی بہت فاسد۔اس کی تشریح کی حاجت نہیں۔اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اول درجہ کا نجاست خور اور نیز بے غیرت اور دیوث ہے۔اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانون قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور بد جانور کے گوشت کا اثر بھی بدن اور روح پر بھی پلید ہی ہو کیونکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہے۔پس اس میں کیا شک ہے کہ ایسے بد کا اثر بھی بد ہی پڑے گا۔جیسا کہ یونانی طبیبوں نے اسلام سے پہلے ہی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس جانور کا گوشت بالخاصیت حیا کی قوت کو کم کرتا ہے اور دیوٹی کو بڑھاتا ہے اور مردار کا کھانا بھی اسی لئے اس شریعت میں منع ہے کہ مردار بھی کھانے والے کو اپنے رنگ میں لاتا ہے اور نیز ظاہری صحت کیلئے بھی مضر ہے۔اور جن جانوروں کا خون اندر ہی رہتا ہے جیسے گلا گھونٹا ہوا یا لاٹھی سے مارا ہوا۔یہ تمام جانور در حقیقت مردار کے حکم میں ہی ہیں۔کیا مردہ کا خون اندر رہنے سے اپنی حالت پر رہ سکتا ہے؟ نہیں بلکہ وہ بوجہ مرطوب ہونے کے بہت جلد گندہ ہوگا اور اپنی عفونت سے تمام گوشت کو خراب کرے گا اور نیز خون کے کیڑے جو حال کی تحقیقات سے بھی ثابت ہوئے ہیں۔مرکز ایک زہرناک عفونت بدن میں پھیلا دیں گے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 339،338) تورات وانجیل میں سور کی حرمت ( پولوس نے۔ناقل ) ایک اور گند اس مذہب میں ڈال دیا کہ اُن کے لئے سؤ رکھانا حلال کر دیا۔حالانکہ حضرت مسیح انجیل میں سؤر کو نا پاک قرار دیتے ہیں۔تبھی تو انجیل میں ان کا قول ہے کہ اپنے موتی سوروں کے آگے مت چھینکو۔پس جب کہ پاک تعلیم کا نام حضرت مسیح نے موتی رکھا ہے تو اس مقابلہ سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ پلید کا نام انہوں نے سو ررکھا ہے اصل بات یہ ہے کہ یونانی سور کو کھایا کرتے تھے جیسا کہ آج کل تمام یورپ کے لوگ