فقہ المسیح — Page 342
فقه المسيح 342 حکومت کی اطاعت مسئلہ میں علماء مخالفین نے ہم سے سخت اختلاف کیا ہے اور اپنی طرف سے کوئی دقیقہ ہم کو تکلیف دہی کا انھوں نے باقی نہیں رکھا، مگر ہم ان عارضی تکالیف اور آنی ضرر رسانیوں کے خوف سے حق کو کیونکر چھوڑ سکتے ہیں۔ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حکومت کے لحاظ سے ہندوستان ہرگز ہرگز دارالحرب نہیں ہے۔ہمارا مقدمہ ہی دیکھ لو۔اگر یہی مقدمہ سکھوں کے عہد حکومت میں ہوتا اور دوسری طرف ان کا کوئی گرویا برہمن ہوتا، تو بدوں کسی قسم کی تحقیق و تفتیش کے ہم کو پھانسی دے دینا کوئی بڑی بات نہ تھی مگر انگریزوں کی سلطنت اور عہد حکومت ہی کی یہ خوبی ہے کہ مقابل میں ایک ڈاکٹر اور پھر مشہور پادری لیکن تحقیقات اور عدالت کی کاروائی میں کوئی سختی کا برتاؤ نہیں کیا جاتا۔کیپٹن ڈگلس نے اس بات کی ذرا بھی پروانہیں کی کہ پادری صاحب کی ذاتی وجاہت یا ان کے اپنے عہدہ اور درجہ کا لحاظ کیا جاوے چنانچہ انہوں نے لیمار چنڈ صاحب سے جو پولیس گورداسپور کے اعلی افسر ہیں ، یہی کہا کہ ہمارا دل تسلی نہیں پکڑتا۔پھر عبدالحمید سے دریافت کیا جاوے۔آخر کار انصاف کی رو سے ہم کو اس نے بری ٹھرایا۔پھر یہ لوگ ہم کو ارکان مذہب کی بجا آوری سے نہیں روکتے بلکہ بہت سے برکات اپنے ساتھ لے کر آئے جس کی وجہ سے ہم کو اپنے مذہب کی اشاعت کا خاطر خواہ موقع ملا اور اس قسم کا امن اور آرام نصیب ہوا کہ پہلی حکومتوں میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔پھر یہ صریح ظلم اور اسلامی تعلیم اور اخلاق سے بعید ہے کہ ہم ان کے شکر گزار نہ ہوں۔یا درکھو! انسان جو اپنے جیسے انسان کی نیکیوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا تعالی کا بھی شکر گزار نہیں ہو سکتا حالانکہ وہ اُسے دیکھتا ہے تو غیب الغیب ہستی کے انعامات کا شکر گزار کیونکر ہوگا جس کو وہ دیکھتا بھی نہیں ، اس لیے محض حکومت کے لحاظ سے ہم اس کو دارالحرب نہیں کہتے۔ہاں ! ہمارے نزدیک ہندوستان دارالحرب ہے بلحاظ قلم کے۔پادری لوگوں نے اسلام کے خلاف ایک خطر ناک جنگ شروع کی ہوئی ہے۔اس میدان جنگ میں وہ نیزہ ہائے قلم لے کر