فقہ المسیح — Page 341
فقه المسيح 341 حکومت کی اطاعت آزادی اور شوق سے کر سکتا ہے۔مجمع میں سے ایک شخص بولا کہ اگر کتاب کی اشاعت بند نہ ہوئی ، ہمیشہ تک طبع ہوتی رہے گی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: اگر ہم واقعی طور پر کتاب کی اشاعت بند نہ کریں جو اس کے رد کرنے کی صورت میں ہوسکتی ہے تو گورنمنٹ سے ایک بار نہیں ہزار دفعہ اس قسم کی مدد لے کر اس کی اشاعت بند کر دی جائے وہ رک نہیں سکتی۔اگر اس تھوڑے عرصے کے لئے وہ برائے نام بند بھی ہو جائے تو پھر بھی بہت سی کمزور طبیعت کے انسانوں اور بعض آنے والی نسلوں کے لئے یہ تجویز زہر قاتل ہو گی کیونکہ جب ان کو معلوم ہوگا کہ فلاں کتاب کا جواب جب مسلمانوں سے نہ ہو سکا تو اس کے لئے گورنمنٹ سے بند کرانے کی کوشش کی۔اس سے ایک قسم کی بدظنی ہمارے مذہب کی نسبت پیدا ہوگی۔پس میرا یہ اصول رہا ہے کہ ایسی کتاب کا جواب دیا جائے اور گورنمنٹ کی ایک کچی امداد یعنی آزادی سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایسا شافی جواب دیا جائے کہ خودان کو اس کی اشاعت کرتے ہوئے ندامت محسوس ہو۔دیکھو جیسے ہمارے مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں ان کو جب معلوم ہو گیا کہ مقدمہ میں جان نہیں رہی اور مصنوعی جادو کا پتلا ٹوٹ گیا تو انہوں نے آتھم کی بیوی اور داماد جیسے گواہ بھی پیش نہ کیے۔پس میری رائے یہی ہے اور میرے دل کا فتویٰ یہی ہے کہ اس کا دندان شکن جواب نہایت نرمی اور ملاطفت سے دیا جائے۔پھر خدا چاہے گا تو ان کو خود ہی جرات نہ ہوگی۔کیا ہندوستان دارالحرب ہے؟ فرمایا: (رسالہ الانذار بحوالہ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 158 159 ) ہم بلحاظ گورنمنٹ کے ہندوستان کو دارالحرب نہیں کہتے اور یہی ہمارا مذ ہب ہے۔اگر چہ اس