فقہ المسیح — Page 334
فقه المسيح 334 حکومت کی اطاعت سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری سچے دل سے نہ کی جاوے۔برادری کے حقوق ہیں۔ان سے بھی نیک سلوک کرنا چاہیے البتہ ان باتوں میں جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف ہیں، ان سے الگ رہنا چاہیے۔ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو اور خدا تعالیٰ کی کل مخلوق سے احسان کرو۔انگریزوں کی حکومت میں رہنے کا مسئلہ (الحکم 31 جولائی ، 10 اگست 1904 صفحہ 13 ) مسئلہ جہاد کا تذکرہ ہوا جس میں ضمناً بعض ان گروہوں کا ذکر بھی آ گیا جو کہ ہر ایک کافر کو بذریعہ تلوار قتل کر دینے کو غزا قرار دیتے ہیں اور انگریزوں کے ملکوں میں رہنا بدعت اور کفر خیال کرتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا: اُن کا یہ خیال کہ ہم کفر کے اثر سے بچنے کے لیے الگ رہتے ہیں اور اگر انگریزوں کی رعیت ہو کر رہیں تو آنکھوں سے کفر اور شرک کے کام دیکھنے پڑیں اور مشرکانہ کلام کان سے سننے پڑیں۔میرے نزدیک درست نہیں ہیں کیونکہ اس گورنمنٹ نے مذہب کے بارے میں ہر ایک کو اب تک آزادی دے رکھی ہے اور ہر ایک کو اختیار ہے کہ وہ امن اور سلامت روی سے اپنے اپنے مذہب کی اشاعت کرے۔مذہبی تعصب کو گورنمنٹ ہرگز دخل نہیں دیتی۔اس کی بہت سی زندہ نظیریں موجود ہیں۔ایک دفعہ خود عیسائی پادریوں نے ایک جھوٹا مقدمہ خون کا مجھ پر بنایا۔ایک انگریز اور عیسائی حاکم کے پاس ہی وہ مقدمہ تھا اور اس وقت کا ایک لیفٹیننٹ گورنر بھی ایک پادری مزاج آدمی تھا مگر آخر اس نے فیصلہ میرے حق میں دیا اور بالکل بری کر دیا۔بلکہ یہاں تک کہا کہ میں پادریوں کی خاطر انصاف کو ترک نہیں کر سکتا۔اس کے بعد ابھی ایک مقدمہ ( کا ) فیصلہ ہوا ہے۔پہلے تو وہ ہندو مجسٹریٹوں کے پاس تھا۔نہیں معلوم کہ انہوں نے کس رعب میں آکر۔