فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 611

فقہ المسیح — Page 321

فقه المسيح پراویڈنٹ فنڈ 321 سود، انشورنس اور بینکنگ ایک صاحب نے سوال کیا کہ ریلوے میں جو لوگ ملازم ہوتے ہیں۔ان کی تنخواہ میں سے ایک آنہ فی روپیہ کاٹ کر رکھا جاتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ روپیہ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ زائد روپیہ بھی وہ دیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدہ کے لیے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلا وے گا لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سود سے باہر ہے چنانچہ انبیاء ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے ہیں۔اگر بادشاہ کچھ روپیہ لیتا ہے اور وہ اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادا ئیگی وقت اُسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ) دیدیا ہو۔یہ خیال رہنا چاہیے کہ اپنی خواہش نہ ہو۔خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔تجارت کے لئے سودی روپیہ لینے کی ممانعت البدر 27 مارچ 1903 ، صفحہ 75) ایک صاحب نے سوال کیا کہ ضرورت پر سودی روپیہ لے کر تجارت وغیرہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: حرام ہے۔ہاں اگر کسی دوست اور تعارف کی جگہ سے روپیہ لیا جاوے اور کوئی وعدہ اس کو زیادہ دینے کا نہ ہو نہ اس کے دل میں زیادہ لینے کا خیال ہو۔پھر اگر مقروض اصل سے کچھ زیادہ دیدے تو وہ سود نہیں ہوتا بلکہ یہ تو هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن: 61) ہے۔اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ضرورت سخت ہواور سوائے سود کے کام نہ چل سکے