فقہ المسیح — Page 312
فقه المسيح 312 خرید وفروخت اور کاروباری امور بیچنے والے کو اپنی چیز کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار ہے سوال پیش ہوا کہ بعض تاجر گلی کوچوں میں یا بازار میں اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ایک ہی چیز کی قیمت کسی سے کم لیتے ہیں اور کسی سے زیادہ، کیا یہ جائز ہے؟ فرمایا: مالک شے کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کی قیمت جو چاہے لگائے اور مانگے لیکن وقت ضرورت تراضی طرفین ہو اور بیچنے والا کسی قسم کا دھوکہ نہ کرے۔مثلاً ایسانہ ہوکہ چیز کے خواص وہ نہ ہوں جو بیان کئے جاویں یا اور کسی قسم کا دعا خریدار سے کیا جاوے اور جھوٹ بولا جاوے اور یہ بھی جائز نہیں کہ بچے یا نا واقف کو پائے تو دھوکہ دے کر قیمت زیادہ لے لے اور جس کو اس ملک میں بدر 16 مئی 1907 صفحہ 10 لگادا لگانا کہتے ہیں یہ نا جائز ہے۔تجارتی روپیہ پر منافع ایک صاحب کی خاطر حضرت حکیم نورالدین صاحب نے ایک مسئلہ حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ ایک شخص ہیں جن کے پاس ہیں بائیس ہزار کے قریب روپیہ موجود ہے۔ایک سکھ ہے وہ ان کا روپیہ تجارت میں استعمال کرنا چاہتا ہے اور ان کے اطمینان کے لیے اس نے تجویز کی ہے کہ یہ روپیہ بھی اپنے قبضہ میں رکھیں لیکن جس طرح وہ ہدایت کرے۔اسی طرح ہر ایک شے خرید کر جہاں کہے وہاں روانہ کریں اور جو روپیہ آوے وہ امانت رہے۔سال کے بعد وہ سکھ دو ہزار چھ سو رو پید ان کو منافع کا دے دیا کرے گا۔یہ اس غرض سے یہاں فتویٰ دریافت کرنے آئے ہیں کہ یہ روپیہ جو اُن کو سال کے بعد ملے گا اگر سود نہ ہو تو شراکت کر لی جاوے۔حضرت اقدس نے فرمایا: چونکہ اُنہوں نے خود بھی کام کرنا ہے اور ان کی محنت کو دخل ہے اور وقت بھی صرف کریں گے اس لئے ہر ایک شخص کی حیثیت کے لحاظ سے اس کے وقت اور محنت کی قیمت ہوا کرتی ہے۔دس دس ہزار اور دس دس لاکھ روپیہ لوگ اپنی محنت اور وقت کا معاوضہ لیتے ہیں۔لہذا میرے نزدیک تو