فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 611

فقہ المسیح — Page 311

فقه المسيح 311 خرید وفروخت اور کاروباری امور خرید وفروخت اور کاروباری امور ذخیرہ اندوزی نا جائز ہے کسی نے پوچھا کہ بعض آدمی غلہ کی تجارت کرتے ہیں اور خرید کر اُسے رکھ چھوڑتے ہیں جب مہنگا ہو جاوے تو اسے بیچتے ہیں کیا ایسی تجارت جائز ہے؟ فرمایا: اس کو مکر وہ سمجھا گیا ہے۔میں اس کو پسند نہیں کرتا۔میرے نزدیک شریعت اور ہے اور طریقت اور ہے۔ایک آن کی بدنیتی بھی جائز نہیں اور یہ ایک قسم کی بد نیتی ہے۔ہماری غرض یہ ہے کہ بد نیتی دور ہو۔امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی بابت لکھا ہے کہ آپ ایک مرتبہ بہت ہی تھوڑی سی نجاست جو اُن کے کپڑے پر تھی دھور ہے تھے۔کسی نے کہا کہ آپ نے اس قدر کے لیے تو فتویٰ نہیں دیا۔اس پر آپ نے کیا لطیف جواب دیا کہ آن فتوی است و ایں تقوی۔پس انسان کو دقائق تقویٰ کی رعایت رکھنی چاہیے ، سلامتی اسی میں ہے۔اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا نہ کرے تو پھر ایک دن وہی چھوٹی چھوٹی باتیں کبائر کا مرتکب بنادیں گی اور طبیعت میں کسل اور لا پروائی پیدا ہو کر ہلاک ہو جائے گا۔تم اپنے زیر نظر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کرنا رکھو اور اس کے لیے دقائق تقوی کی رعایت ضروری ہے۔(الحام 10 نومبر 1905 صفحہ 5) بیع وشراء میں عرف کی حیثیت ایک شخص نے سوال کیا کہ ریلی برادرز وغیرہ کارخانوں میں سرکاری سیر 80 روپیہ کا دیتے ہیں اور لیتے 81 روپے کا ہیں۔کیا یہ جائز ہے؟ فرمایا: جن معاملات میں بیج وشراء میں مقدمات نہ ہوں۔فساد نہ ہوں۔تراضی فریقین ہو اور سرکار نے بھی جرم نہ رکھا ہو۔عرف میں جائز ہو۔وہ جائز ہے۔“ (الحکم 10 راگست 1903ء صفحہ 19)