فقہ المسیح — Page 307
فقه المسيح 307 پرده قادیانی روایت کرتے ہیں کہ سیدنا امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام قیام لاہور کے ایام میں سیر کے لئے تشریف لے جانے سے قبل مجھ غلام کو یاد فرماتے اور جب میں اطلاع کرتا ، تشریف لاتے تھے۔یہی حضور کا معمول تھا اور میں بھی نہایت پابندی اور تعہد سے ان اوقات کا انتظام اور انتظار کیا کرتا تھا۔رتھ کے پیچھے میرے واسطے حضور نے حکم دے کر ایک سیٹ بنوا دی تھی تو فٹن کی سواری میں پیچھے کی طرف کا پائیدان میر امخصوص مقام تھا جہاں ابتداء میں پیچھے کو منہ کر کے الٹا کھڑا ہوا کرتا تھا۔ایسا کہ میری پیٹھ حضرت اور بیگمات کی طرف ہوا کرتی تھی۔اس خیال سے کہ بیگمات کو تکلیف نہ ہو۔کیونکہ عموما سیدۃ النساء اور کوئی اور خواتین مبارکہ بھی حضرت کے ساتھ کو چوان کی طرف والی نشست پر تشریف فرما ہوتیں تو ان کی تکلیف یا پردہ کا خیال میرے الٹا کھڑے ہونے کا موجب و محرک ہوا کرتا تھا۔مگر ایک روز کہیں حضور کا خیال میری اس حرکت کی طرف مبذول ہو گیا تو حکم دیا کہ میاں عبدالرحمن !یوں تکلف کر کے اُلٹا کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔سفروں میں نہ اتنا سخت پردہ کرنے کا حکم ہے اور نہ ہی اس تکلف کی ضرورت۔اَلدِّينُ يُسُر اور جس طرح عورتوں کو پردہ کا حکم ہے اسی طرح مردوں کو بھی غض بصر کر کے پردہ کی تاکید ہے۔آپ بے تکلف سیدھے کھڑے ہوا کریں۔چنانچہ اس کے بعد پھر میں ہمیشہ سیدھا کھڑا ہوا کرتا تھا برعائت پردہ۔بعض بیگمات کی گودی میں بچے ہوا کرتے تھے۔گاڑی سے اُترتے وقت ان کے اُٹھانے میں بھی میں بہت حد تک تکلف کیا کرتا تھا مگر اس سے بھی حضور نے روک دیا اور میں بچوں کو محتاط طریق سے بیگمات کی گودیوں میں سے بسہولت لے دے لیا کرتا تھا۔پردہ کی حدود (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 385،384) حضرت نواب محمد علی خان صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود