فقہ المسیح — Page xxxiii
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب صرف ظاہری مسائل پر ہی عمل کرنا اور حقیقت کو نہ سمجھنا یہ بڑی غلطی ہے۔مجھے خدا نے مجدد بنا کر بھیجا ہے جو وقت کی ضرورت کے مطابق رہنمائی کرتا ہے۔فرمایا مجد د جو آیا کرتا ہے وہ ضرورت وقت کے لحاظ سے آیا کرتا ہے نہ استنجے اور وضو کے مسائل بتلانے۔“ اسی طرح آپ نے اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا (الحکم 19 مئی 1899 ، صفحہ 4) یہ عاجز شریعت اور طریقت دونوں میں مجد د ہے۔تجدید کے یہ معنے نہیں ہیں کہ کم یا زیادہ کیا جاوے۔اس کا نام تو سیخ ہے بلکہ تجدید کے یہ معنے ہیں کہ جو عقائد حقہ میں فتور آ گیا ہے اور طرح طرح کے زوائد اُن کے ساتھ لگ گئے ہیں یا جو اعمال صالحہ کے ادا کرنے میں سُستی وقوع میں آگئی ہے یا جو وصول اور سلوک الی اللہ کے طرق اور قواعد محفوظ نہیں رہے اُن کو مجددا تا کید ابالاصل بیان کیا جائے۔“ ( الحکم 24 جون 1900 صفحہ 3) 5- قياسات مسلّمه مجتهدين واجب العمل ھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حکم عدل کی حیثیت سے باہمی تنازعات کا فیصلہ فرمایا اور جن امور میں امتِ مسلمہ میں اختلاف پایا جاتا تھا اور باہمی بحث مباحثے بھی ہوتے تھے اُن میں آپ نے صحیح اور معتدل راستہ دکھایا۔اس کے علاوہ مسلّمہ اور متداول فقہی مسائل میں امتِ مسلمہ کے اجتہاد کو بھی بڑی اہمیت دی۔خاص طور پر ایسے مسائل کو جو مطہر بزرگان امت کے اجتہاد پرمبنی ہیں اور امت مسلمہ ان پر صدیوں سے عمل کر رہی ہے۔فرمایا میں تمام مسلمانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے کسی ایک حکم میں بھی دوسرے مسلمانوں سے علیحدگی نہیں جس طرح سارے اہل اسلام احکام بینه قرآن کریم و 11