فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 611

فقہ المسیح — Page 272

فقه المسيح 272 نکاح حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے دوسری شادی کی تو کسی وجہ سے جلدی ہی اس بیوی کو طلاق دے دی۔پھر بہت مدت شاید سال کے قریب گزر گیا تو حضرت صاحب نے چاہا کہ وہ اس بی بی کو پھر آباد کریں۔چنانچہ مسئلہ کی تفتیش ہوئی اور معلوم ہوا کہ طلاق بائن نہیں ہے بلکہ رجعی ہے۔اس لئے آپ کی منشاء سے ان کا دوبارہ نکاح ہو گیا۔( یہاں رجعی اور بائن کے الفاظ اصطلاحی معنوں میں استعمال نہیں ہوئے۔یہاں بائن سے مراد دراصل طلاق بتہ ہے۔ناقل ) خاکسار عرض کرتا ہے کہ پہلی بیوی سے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے اولاد نہیں ہوتی تھی اور حضرت صاحب کو آرزو تھی کہ ان کے اولا د ہو جائے۔اسی لئے آپ نے تحریک کر کے شادی کروائی تھی۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 761 حلالہ حرام ہے اسلام سے پہلے عرب میں حلالہ کی رسم تھی لیکن اسلام نے اس ناپاک رسم کو قطعاً حرام کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جو حلالہ کے پابند ہوں چنانچہ ابن عمر سے مروی ہے کہ حلالہ زنا میں داخل ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حلالہ کرنے کرانے والے سنگسار کئے جاویں۔اگر کوئی مطلقہ سے نکاح کرے تو نکاح تب درست ہوگا کہ جب واقعی طور پر اس کو اپنی جو رو بنالے اور اگر دل میں یہ خیال ہو کہ وہ اس حیلہ کے لئے اس کو جو رو بناتا ہے کہ تا اس کی طلاق کے بعد دوسرے پر حلال ہو جائے تو ایسا نکاح ہرگز درست نہیں اور ایسا نکاح کرنے والا اس عورت سے زنا کرتا ہے اور جو ایسے فعل کی ترغیب دے وہ اس سے زنا کرواتا ہے۔غرض حلالہ علمائے اسلام کے اتفاق سے حرام ہے اور ائمہ اور علماء سلف جیسے حضرت قتادہ۔عطا اور امام حسن اور ابراہیم نخعی اور حسن بصری