فقہ المسیح — Page 249
فقه المسيح 249 نکاح ہے۔وہ اپنی کتاب تد بیر بقاء نسل میں بعینہ یہی قول لکھتے ہیں جو او پر نقل ہو چکا اور صفحہ 46 میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی تحقیقات سے یہ ثابت ہے کہ نو یا آٹھ یا پانچ یا چھ برس کی لڑکیوں کو حیض آیا۔یہ کتاب بھی میرے پاس موجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔ان کتابوں میں کئی اور ڈاکٹروں کا نام لے کر حوالہ دیا گیا ہے اور چونکہ یہ تحقیقا تیں بہت مشہور ہیں اور کسی دانا پر مخفی نہیں اس لئے زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔اور حضرت عائشہ کا نو سالہ ہونا تو صرف بے سروپا اقوال میں آیا ہے۔کسی حدیث یا قرآن سے ثابت نہیں لیکن ڈاکٹر واہ صاحب کا ایک چشم دید قصہ لینسٹ نمبر 15 مطبوعہ اپریل 1881ء میں اس طرح لکھا ہے کہ انہوں نے ایسی عورت کو جنایا جس کو ایک برس کی عمر سے حیض آنے لگا تھا اور آٹھویں برس حاملہ ہوئی اور آٹھ برس دس مہینہ کی عمر میں لڑکا پیدا ہوا۔) آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 64،63) تعدد ازدواج میں عدل کے تقاضے ایک احمدی نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ تعد دازدواج میں جو عدل کا حکم ہے کیا اس سے یہی مراد ہے کہ مرد بحیثیت اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء: 35) کے خود ایک حاکم عادل کی طرح جس بیوی کو سلوک کے قابل پاوے ویسا سلوک اس سے کرے یا کچھ اور معنی ہیں؟ حضرت اقدس نے فرمایا: محبت کو قطع نظر بالائے طاق رکھ کر عملی طور پر سب بیویوں کو برابر رکھنا چاہئے مثلاً پارچہ جات، خرچ خوراک ، معاشرت حتی کہ مباشرت میں بھی مساوات برتے۔یہ حقوق اس قسم کے ہیں کہ اگر انسان کو پورے طور پر معلوم ہوں تو بجائے بیاہ کے وہ ہمیشہ رنڈ وار ہنا پسند کرے۔خدا تعالیٰ کی تہدید کے نیچے رہ کر جو شخص زندگی بسر کرتا ہے وہی اُن کی بجا آوری کا دم بھر سکتا ہے۔ایسے لذات کی نسبت جن سے خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہمیشہ سر پر رہے، تلخ زندگی بسر کر لینی ہزار ہا درجہ بہتر ہے۔تعدد ازدواج کی نسبت اگر ہم تعلیم دیتے ہیں تو