فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 611

فقہ المسیح — Page 248

فقه المسيح 248 نکاح کر کے آپ کی کچھ خدمت کی جائے۔غرض گورنمنٹ نے اب تک کوئی اشتہار نہیں دیا کہ ہمارے قوانین بھی تو ریت اور انجیل کی طرح خطا اور غلطی سے خالی ہیں اگر آپ کو کوئی اشتہار پہنچا ہو تو اس کی ایک نقل ہمیں بھی بھیج دیں پھر اگر گورنمنٹ کے قوانین خدا کی کتابوں کی طرح خطا سے خالی نہیں تو ان کا ذکر کرنا یا تو حمق کی وجہ سے ہے یا تعصب کے سبب سے مگر آپ معذور ہیں اگر گورنمنٹ کو اپنے قانون پر اعتماد تھا تو کیوں ان ڈاکٹروں کو سزا نہیں دی جنہوں نے حال میں یورپ میں بڑی تحقیقات سے نو برس بلکہ سات برس کو بھی بعض عورتوں کے بلوغ کا زمانہ قرار دے دیا ہے اور نو برس کی عمر کے متعلق آپ اعتراض کر کے پھر تو ریت یا انجیل کا کوئی حوالہ نہ دے سکے صرف گورنمنٹ کے قانون کا ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا تو ریت اور انجیل پر ایمان نہیں رہا۔ورنہ نو برس کی حرمت یا تو تو ریت سے ثابت کرتے یا انجیل سے ثابت کرنی چاہئے تھی۔( نور القرآن۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 377 تا 379) حضرت عائشہ کی آنحضرت ﷺ کے ساتھ شادی پر اعتراض کا جواب ہندوؤں کے اس اعتراض کہ حضرت رسول خدا محمد صاحب کا اپنی بیوی حضرت عائشہ نوسالہ سے ہم بستر ہونا کیا اولاد پیدا کرنے کی نیت سے تھا، کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:۔یہ اعتراض محض جہالت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔کاش اگر نا دان معترض پہلے کسی محقق ڈاکٹریا طبیب سے پوچھ لیتا تو اس اعتراض کرنے کے وقت بجز اس کے کسی اور نتیجہ کی توقع نہ رکھتا کہ ہر یک حقیقت شناس کی نظر میں نادان اور احمق ثابت ہوگا۔ڈاکٹر مون صاحب جو علوم طبعی اور طبابت کے ماہر اور انگریزوں میں بہت مشہور محقق ہیں وہ لکھتے ہیں کہ گرم ملکوں میں عورتیں آٹھ یا نو برس کی عمر میں شادی کے لائق ہو جاتی ہیں۔کتاب موجود ہے تم بھی اسی جگہ ہو اگر طلب حق ہے تو آ کر دیکھ لو اور حال میں ایک ڈاکٹر صاحب جنہوں نے کتاب معدن الحکمت تالیف کی