فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 611

فقہ المسیح — Page 244

فقه المسيح 244 نکاح کرتے ہیں اس واسطے میں انکار کرتا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ ” مخالفوں کی لڑکی لے لو اور مخالفوں کو دو نہیں، یعنی مخالفوں کی لڑکی لے لو اور مخالفوں کو دینی نہیں چاہیے۔رشتہ کے لئے لڑکیوں کا دکھانا (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 170 ، 171) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ مدت کی بات ہے کہ جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہوگئی اور اُن کو دوسری کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے اُن سے کہا کہ ہمارے گھر میں دولڑ کیاں رہتی ہیں۔ان کو میں لاتا ہوں ، آپ اُن کو دیکھ لیں۔پھر اُن میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جاوے۔چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دولڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا۔اور پھر اندر آ کر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں۔آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں۔چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے اُن کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے اُن کو رخصت کر دیا اور اس کے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ تمہیں کون سی لڑکی پسند ہے۔وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے۔اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا۔پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے۔پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہے وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموما بدنما ہو جاتا ہے مگر گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت حضرت صاحب اور میاں ظفر احمد صاحب اور میرے سوا اور کوئی شخص وہاں نہ تھا۔اور نیز یہ کہ حضرت صاحب ان لڑکیوں کو کسی احسن طریق سے وہاں لائے تھے۔اور پھر ان کو مناسب طریق پر رخصت کر دیا تھا جس سے ان کو