فقہ المسیح — Page 242
فقه المسيح 242 نکاح منگنی نکاح کے قائم مقام نہیں سوال:۔ہمارے ملک کا رواج ہے کہ جب با قاعدہ منگنی ہو جائے اور لڑکی کو زیور اور کپڑے پہنا دیئے جائیں تو وہ نکاح کا قائم مقام بھی جاتی ہے اس واسطے اس لڑکی کا کسی اور جگہ نکاح نہیں ہوسکتا؟ جواب :۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا: یہ کوئی دعوی نہیں۔نہ منگنی کوئی شرعی بات ہے جب والدین راضی اور لڑکی راضی ہے تو کسی تیسرے شخص کو بولنے کا حق نہیں۔(رجسر ہدایات حضرت خلیفہ اسیح الثانی 1954-6-26) ایک مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر لڑکی چاہتی ہے کہ اس کا نکاح تو ڑ دیا جاوے تو۔۔۔اس قدر جھگڑے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ابھی دونوں آپس میں ملے نہ تھے۔اس وقت اگر باہمی تنازع پیدا ہو گیا تھا تو ان کو خوشی سے اس نکاح کو توڑ دینا چاہئے تھا کیونکہ ایسا نکاح در حقیقت ایک رنگ منگنی کا رکھتا ہے اور یہی فتویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مجھے زبانی پہنچا ہے۔فرمودات مصلح موعود درباره فقہی مسائل صفحه 192،191) نکاح میں لڑکی کی رضامندی ضروری ہے ایک لڑکی کے دو بھائی تھے اور ایک والدہ۔ایک بھائی اور والدہ ایک لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کے نکاح کے لئے راضی تھے مگر ایک بھائی مخالف تھا۔وہ اور جگہ رشتہ پسند کرتا تھا اور لڑکی بھی بالغ تھی۔اس کی نسبت مسئلہ دریافت کیا گیا کہ اس لڑکی کا نکاح کہاں کیا جاوے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے دریافت کیا کہ وہ لڑکی کس بھائی کی رائے سے اتفاق کرتی ہے؟ جواب دیا گیا کہ اپنے اس بھائی کے ساتھ جس کے ساتھ والدہ بھی متفق ہے۔فرمایا: پھر وہاں ہی اس کا رشتہ ہو جہاں لڑکی اور اس کا بھائی دونوں متفق ہیں۔(الحکم 10 جولائی 1903 ، صفحہ 1 )