فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 611

فقہ المسیح — Page 204

فقه المسيح 204 روزہ اور رمضان سفر میں رخصت، ملامت کی پرواہ نہ کی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ملک مولا بخش صاحب پنشنر نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رمضان شریف میں امرتسر میں تشریف لائے اور آپ کا لیکچر منڈ وہ بابو گھنیا لعل (جس کا نام اب بندے ماترم پال ہے ) میں ہوا۔بوجہ سفر کے حضور کو روزہ نہ تھا لیکچر کے دوران مفتی فضل الرحمن صاحب نے چائے کی پیالی پیش کی۔حضور نے توجہ نہ فرمائی پھر وہ اور آگے ہوئے۔پھر بھی حضور مصروف لیکچر رہے۔پھر مفتی صاحب نے پیالی بالکل قریب کر دی تو حضور نے لے کر چائے پی لی اس پر لوگوں نے شور مچا دیا۔یہ ہے رمضان شریف کا احترام، روزے نہیں رکھتے اور بہت بکواس کرنا شروع کر دیا۔لیکچر بند ہو گیا اور حضور پس پردہ ہو گئے۔گاڑی دوسرے دروازے کے سامنے لائی گئی اور حضور اس میں داخل ہو گئے۔لوگوں نے اینٹ پتھر وغیرہ مارنے شروع کئے اور بہت ہلّہ مچایا۔گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا مگر حضور بخیر و عافیت قیام گاہ پر پہنچ گئے اور بعد میں سنا گیا کہ ایک غیر احمدی مولوی یہ کہتا تھا کہ ” آج لوکاں نے مرزے نوں نبی بنا دیتا “ یہ میں نے خود اس کے منہ سے نہیں سُنا۔حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب کے ساتھ ہم باہر نکلے اور ان کی خدمت میں عرض کی کہ لوگ اینٹ پتھر مارتے ہیں۔ذرا ٹھہر جائیں۔تو آپ نے فرمایا وہ گیا جس کو مارتے تھے۔مجھے کون مارتا ہے۔چونکہ مفتی فضل الرحمن صاحب کے چائے پیش کرنے پر یہ سب گڑ بڑ ہوئی تھی۔اس لئے سب آدمی ان کو کہتے تھے کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔میں نے بھی ان کو ایسا کہا۔وہ بیچارے تنگ آگئے اور بعد میں میاں عبد الخالق صاحب مرحوم احمدی نے مجھے بتلایا کہ جب یہ معاملہ حضور کے سامنے پیش ہوا کہ مفتی صاحب نے خواہ مخواہ لیکچر خراب کر دیا تو حضور نے فرمایا : مفتی صاحب نے کوئی بُرا کام نہیں کیا ، اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ہے کہ