فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 611

فقہ المسیح — Page 203

فقه المسيح 203 روزہ اور رمضان صاحب لدھیانہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔رمضان کا مہینہ تھا۔میں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور میرے رفقاء نے نہیں رکھا تھا۔جب ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو تھوڑا سا وقت غروب آفتاب میں باقی تھا۔حضرت کو انہوں نے کہا کہ ظفر احمد نے روزہ رکھا ہوا ہے۔حضرت فوراً اندر تشریف لے گئے اور شربت کا ایک گلاس لے کر آئے اور فرمایا روزہ کھول دو۔سفر میں روزہ نہیں چاہئے۔میں نے تعمیل ارشاد کی اور اس کے بعد بوجہ مقیم ہونے کے ہم روزہ رکھنے لگے۔افطاری کے وقت حضرت اقدس خود تین گلاس ایک بڑے تھال میں رکھ کر لائے۔ہم روزہ کھولنے لگے۔میں نے عرض کیا کہ حضور منشی جی کو (منشی اروڑے خاں صاحب کو ایک گلاس میں کیا ہوتا ہے۔حضرت مسکرائے اور جھٹ اندر تشریف لے گئے۔اور ایک بڑا لوٹا شربت کا بھر کر لائے اور منشی جی کو پلایا۔منشی جی یہ سمجھ کر حضرت اقدس کے ہاتھ سے شربت پی رہا ہوں پیتے رہے اور ختم کر دیا۔( روایت حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 224 نیا ایڈیشن) سفر میں روزہ کھول دینا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ مقدمہ تھا اور اس کی ایک پیشی کے لئے موضع دھار یوال میں جانا پڑا۔گرمی کا موسم تھا اور رمضان کا مہینہ تھا۔بہت دوست اردگرد سے موضع دھار یوال میں گئے اور بہتوں نے روزے رکھے ہوئے تھے۔وہاں ایک مشہور سردارنی نے جو موضع کھنڈے میں مشہور سرداروں میں سے ہے حضور کی خدمت اقدس میں دعوت کا پیغام بھیجا۔حضور نے دعوت منظور فرمائی۔سردارنی نے میٹھے چاول وغیرہ کی دعوت دی۔بعض دوستوں نے حضور سے روزہ کے متعلق عرض کی۔فرمایا سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔چنانچہ اس وقت سب دوستوں نے روزے چھوڑ دیئے۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 303)