فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 611

فقہ المسیح — Page 180

فقه المسيح 180 نماز جنازہ اور تدفین جواب۔میت کے واسطے دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ اس کے ان قصوروں اور گناہوں کو بخشے جواُس نے اس دنیا میں کئے تھے اور اس کے پس ماندگان کے واسطے بھی دعا کرنی چاہئے۔“ سوال۔دعا میں کونسی آیت پڑھنی چاہئے؟ جواب۔یہ تکلفات ہیں۔تم اپنی ہی زبان میں جس کو بخوبی جانتے ہو اور جس میں تم کو جوش پیدا ہوتا ہے۔میت کے واسطے دعا کرو۔“ حفاظت کے خیال سے پختہ قبر بنانا جائز ہے ( بدر 19 جنوری 1906 ء صفحہ 6) ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میرا بھائی فوت ہوگیا ہے میں اس کی قبر کی بناؤں یا نہ بناؤں۔فرمایا: اگر نمود اور دکھلاوے کے واسطے پکی قبریں اور نقش و نگار اور گنبد بنائے جائیں تو یہ حرام ہے لیکن اگر خشک ملا کی طرح یہ کہا جائے کہ ہر حالت اور ہر مقام میں کچی ہی اینٹ لگائی جائے تو یہ بھی حرام ہے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ عمل نیت پر موقوف ہے۔ہمارے نزدیک بعض وجوہ میں پکی کرنا درست ہے مثلاً بعض جگہ سیلاب آتا ہے ، بعض جگہ قبر میں سے میت کو کتے اور بجو وغیرہ نکال لے جاتے ہیں۔مردے کے لئے بھی ایک عزت ہوتی ہے۔اگر ایسے وجوہ پیش آجائیں تو اس حد تک کہ نمود اور شان نہ ہو بلکہ صدمے سے بچانے کے واسطے قبر کا پکا کرنا جائز ہے۔اللہ اور رسول نے مومن کی لاش کے واسطے بھی عزت رکھی ہے۔ورنہ عزت ضروری نہیں تو غسل دینے ، کفن دینے ، خوشبو لگانے کی کیا ضرورت ہے۔مجوسیوں کی طرح جانوروں کے آگے پھینک دو۔مومن اپنے لئے ذلت نہیں چاہتا، حفاظت ضروری ہے۔جہاں تک نیت صحیح ہے خدا تعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرتا۔دیکھو مصلحت الہی نے یہی چاہا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے پختہ گنبد ہو اور کئی بزرگوں کے مقبرے پختہ ہیں مثلاً نظام الدین فرید الدین،