فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 611

فقہ المسیح — Page 154

فقه المسيح 154 حضرت مسیح موعود کا طریق نماز ناک اور پیشانی یا پہلے ہاتھ اور پھر گھٹنے اور پھر ناک اور پیشانی زمین پر رکھ کر سُبْحَانَ رَبِّيَ الأغلى۔۔۔۔يا سُبحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي۔۔۔۔کم سے کم تین دفعہ یا اس سے زیادہ طاق پڑھتے ہیں اور چونکہ صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے بہت قریب ہوتا ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ سجدہ میں دعا بہت قبول ہوتی ہے۔لہذا سجدہ میں اپنی زبان یا عربی زبان میں بہت دعائیں کرتے ہیں اور سجدہ کی حالت میں اپنے دونوں پاؤں کو کھڑا رکھتے ہیں اور ان کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ رکھتے ہیں اور دونوں ہاتھوں کے درمیان سر رکھتے ہیں اور دونوں بازوؤں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا کر کے اور دونوں کہنیوں کو زمین سے اٹھا کر رکھتے ہیں۔ہاں جب لمبا سجدہ کرتے ہوئے تھک جاتے ہیں تو اپنی دونوں کہنیوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھ کر سہارا لے لیتے ہیں۔اس کے بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے سر اٹھا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے ہیں۔اس طور پر کہ داہناں پاؤں کھڑا رکھتے ہیں اور بایاں پاؤں بچھا کر اس کے اوپر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے ہیں اور بیٹھ کر اللَّهُمَّ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْفَعُنِى وَاجُبُرُنِي وَارْزُقْنِي۔۔۔۔يا اللَّهُمَّ اغْفِرْلِی تین دفعه پڑھتے ہیں۔اس کے علاوہ اپنی زبان میں یا عربی زبان میں جو دعا چاہتے ہیں دعا مانگتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے پہلے سجدہ کی مانند سجدہ کرتے ہیں اور پہلے سجدہ کی مانند اس میں وہی کچھ پڑھتے ہیں۔۔۔۔اور دوسرے سجدہ میں بھی دعائیں مانگتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور سوائے پہلی تکبیر اور سُبحَانَكَ اللَّهُ اور اَعُوذُ بِاللَّهِ کے بینم پہلی رکعت کی مانند دوسری رکعت پڑھتے ہیں اور دونوں سجدوں کے بعد اس طرح بیٹھ جاتے ہیں