فقہ المسیح — Page 129
فقه المسيح 129 نمازیں جمع کرنا جائز ضرورت کے نمازیں جمع کر لیتے ہیں۔یہاں تک کہ حقہ ذرا اچھا چل رہا ہے۔یا تاش وغیرہ کھیل رہے ہیں۔اذان ہوئی تو ان کو چھوڑ کر کون جائے۔جھٹ نماز جمع کرنے کی ٹھان لیتے ہیں چاہے دوسری نماز بھی ادا ہو جائے یا دونوں ضائع ہو جائیں۔فرمایا: یہ بہت بُری بات ہے۔نماز جیسے ضروری فرض میں کوتاہی اور غفلت ایمان کی کمزوری پر دال ہے اور دوسری طرف حنفی صاحبان کا یہ حال ہے کہ کیسی ہی ضرورت اور عذر جائز ہو نماز قضاء تو کردیں گے مگر اہلِ حدیث کی ضد اور مخالفت میں جمع نہ کریں گے۔فرمایا کہ کوئی ان لوگوں سے پوچھے کہ حج کے موقعہ پر ایک نماز ہر حاجی کو ٹھیک ادائے رسوم حج کے وقت لازمی طور پر جمع کرنی پڑتی ہے۔اگر یہ فعل ایسا ہی ممنوع ہوتا۔جیسا آپ لوگوں کے عمل سے ہویدا ہے تو ایسے مقدس مقام پر اس کی اجازت کیسے ہوتی۔دراصل ضرورت اور عدم ضرورت کا سوال ہے اور یہی اس بارہ میں معیار ہے۔کس قدر مسافت پر نما ز جمع کی جائے (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 87) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ سے کپورتھلہ تشریف لائے تو صرف ایک دن قیام فرما کر قادیان کو تشریف لے گئے۔ہم کرتار پور کے اسٹیشن پر پہنچانے گئے۔یعنی منشی اروڑا صاحب، محمد خاں صاحب اور میں۔اگر کوئی اور بھی ساتھ کرتار پور گیا ہو تو مجھے یاد نہیں۔کرتار پور کے اسٹیشن پر ہم نے حضرت صاحب کے ساتھ ظہر وعصر کی نماز جمع کی۔نماز کے بعد میں نے عرض کی کہ کس قدر مسافت پر نماز جمع کر سکتے ہیں اور قصر کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا انسان کی حالت کے اوپر یہ بات ہے۔ایک شخص ناطاقت اور ضعیف العمر ہو تو وہ پانچ چھ میل پر بھی قصر کر سکتا ہے اور مثال دی کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں نماز قصر کی۔حالانکہ وہ مکہ شریف