فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 611

فقہ المسیح — Page 128

فقه المسيح 128 نمازیں جمع کرنا قادیان میں زیادہ عرصہ تک نمازیں جمع ہوتی رہیں۔مولوی محمد احسن صاحب نے مولوی نورالدین صاحب کو خط لکھا کہ بہت دن نمازیں جمع کرتے ہو گئے ہیں۔لوگ اعتراض کریں گے تو ہم اس کا کیا جواب دیں گے۔حضرت مولوی صاحب نے جواب دیا کہ اُسی - سے پوچھو ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ) مولوی انوار حسین صاحب شاہ آبادی اس خط و کتابت میں قاصد تھے۔اُن سے مجھے اس کا حال معلوم ہوا۔تو میں نے حضرت صاحب سے جا کر عرض کر دی۔اس وقت تو حضور نے کچھ نہ فرمایا لیکن بعد عصر جب حضور معمولاً مسجد کی چھت پر تشریف فرما تھے تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ایسے اعتراض دل میں کیوں اُٹھتے ہیں۔کیا حدیثوں میں نہیں آیا کہ وہ نماز جمع کرے گا۔ویسے تو نماز جمع کا حکم عام ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کاموں میں اس قدر منہمک ہوگا کہ اس کو نمازیں جمع کرنی پڑیں گی۔اس وقت سید محمد احسن صاحب زار زار رو ر ہے تھے اور تو بہ کر رہے تھے۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 119) جمع صلوتین میں افراط اور تفریط دونوں سے بچنا چاہئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں نے جب لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تو میں نے اُس خلوت کو غنیمت جان کر حضور سے استفسار کیا کہ خاکسار نقش بندیہ طریق میں بیعت ہونے سے قبل فرقہ اہل حدیث جس کو عام لوگ وہابی کے لفظ سے یاد کرتے ہیں ، میں بھی شامل رہا ہے۔اُس وقت سے نمازوں کو جمع کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔اس بارہ میں حضور کا کیا ارشاد ہے۔حضور نے فرمایا کہ جمع صلاتین کے بارہ میں میرے نز دیک مخالف و موافق ہر دو فریق نے افراط و تفریط سے کام لیا ہے۔ایک طرف اس پر عاملین کا تو یہ حال ہے کہ بلا عذر شرعی یا