فقہ المسیح — Page 76
فقه المسيح 76 ارکان نماز رکوع و سجود میں تسبیحات کے بعد اپنی زبان میں دعا کرنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور سیدنا مسیح موعود نے فرمایا کہ ’ دعا نماز میں بہت کرنی چاہیے، نیز فرمایا ”اپنی زبان میں دعا کرنی چاہیے لیکن جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کو انہیں الفاظ میں پڑھنا چاہئے مثلاً رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلیٰ وغیرہ پڑھ کر اور اس کے بعد بیشک اپنی زبان میں دعا کی جائے نیز فرمایا کہ رکوع و سجدہ کی حالت میں قرآنی دعا نہ کی جائے کیونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے اور اعلیٰ شان رکھتا ہے اور رکوع اور سجدہ تذلل کی حالت ہے۔اس لئے کلام الہی کا احترام کرنا چاہئے۔“ سینے پر ہاتھ باندھنا (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 166 ، 167) محمد اسماعیل صاحب سرساوی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں کہ میں جو سینہ پر ہاتھ باندھتا تھا ایک دن مجھ سے پوچھا کہ حضرت صاحب یعنی مسیح موعود علیہ السلام کہاں ہاتھ باندھتے تھے؟ میں نے کہا سینہ پر۔پس اسی روز سے میاں اسمعیل نے بھی سینہ پر بلا خوف ہاتھ باندھنے شروع کئے۔“ (تذکرة المهدی صفحہ 296) نماز میں ہاتھ ناف سے اوپر باندھنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ بیان کیا مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے پاس کسی کا خط آیا کہ کیا نماز میں ناف سے او پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث بھی ملتی ہے؟ حضرت مولوی صاحب نے یہ خط