فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 611

فقہ المسیح — Page 72

فقه المسيح 72 ارکان نماز ہونے لگیں۔صرف حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز میں الحمد شریف امام کے پیچھے پڑھنی چاہئے اور کوئی دلیل قرآن شریف یا حدیث شریف سے بیان نہیں کی۔وہ شخص اتنی بات سُن کر امام کے پیچھے نماز میں الحمد شریف پڑھنے لگا اور کوئی حجت نہیں کی۔ایک شخص نے سوال کیا کہ حضرت صلی اللہ علیک و علی محمد جو شخص نماز میں الحمد امام کے پیچھے نہ پڑھے اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سوال نہیں کرنا چاہئے کہ نماز ہوتی ہے یا نہیں۔یہ سوال کرنا اور دریافت کرنا چاہئے کہ نماز میں الحمد امام کے پیچھے پڑھنا چاہئے کہ نہیں۔ہم کہتے ہیں کہ ضرور پڑھنی چاہئے ہونا نہ ہونا تو خدا تعالیٰ کو معلوم ہے حنفی نہیں پڑھتے اور ہزاروں اولیاء حنفی طریق کے پابند تھے اور خلف امام الحمد نہیں پڑھتے تھے۔جب ان کی نماز نہ ہوتی تو وہ اولیاء اللہ کیسے ہو گئے۔چونکہ ہمیں امام اعظم سے ایک طرح کی مناسبت ہے اور ہمیں امام اعظم کا بہت ادب ہے ہم یہ فتویٰ نہیں دے سکتے کہ نماز نہیں ہوتی۔اس زمانہ میں تمام حدیثیں مدون و مرتب نہیں ہوئی تھیں اور یہ بھید جو کہ اب کھلا ہے نہیں کھلا تھا۔اس واسطہ وہ معذور تھے اور اب یہ مسئلہ حل ہو گیا۔اب اگر نہیں پڑھے گا تو بے شک اس کی نماز درجہ قبولیت کو نہیں پہنچے گی۔ہم یہی بار بار اس سوال کے جواب میں کہیں گے کہ الحمد نماز میں خلف امام پڑھنی چاہئے۔ایک روز میں نے دریافت کیا کہ حضرت صلی الله عليك و على محمد الحمدكس موقع پر پڑھنی چاہئے۔فرمایا جہاں موقع پڑھنے کا لگ جاوے۔میں نے عرض کیا کہ امام کے سکوت میں؟ فرمایا :۔جہاں موقع ہو پڑھنا ضرور چاہئے۔(تذکرۃ المہدی حصہ اول صفحہ 180،179) فاتحہ خلف الامام کے بارے میں ایک موقع پر آپ نے فرمایا دو ضروری ہے“ ( بدر 31 اکتوبر 1907 ، صفحه (7)