فقہ المسیح — Page 57
فقه المسيح 57 وضو ہوتا کہ ہاتھ پیر دھونے سے گناہ دور ہو جاتے ہیں تو یہ پاک شریعت ان تمام پلید قوموں کو جو اسلام سے سرکش ہیں ہاتھ منہ دھونے کے وقت گناہ سے پاک جانتی کیونکہ وضو سے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔مگر شارع علیہ السلام کا یہ مطلب نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کے چھوٹے چھوٹے حکم بھی ضائع نہیں جاتے۔اور ان کے بجالانے سے بھی گناہ دور ہوتے ہیں۔( نور القرآن حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 420) وضو کے طبی فوائد فرمایا :۔نماز کا پڑھنا اور وضو کا کرنا طبی فوائد بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے۔اطباء کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہر روز منہ نہ دھوئے تو آنکھ آجاتی ہے ( آنکھ دُکھنے لگتی ہے۔ایڈیٹر ) اور یہ نزول الماء کا مقدمہ ہے اور بہت سی بیماریاں اس سے پیدا ہوتی ہیں۔پھر بتلاؤ کہ وضو کرتے ہوئے کیوں موت آتی ہے۔بظا ہر کیسی عمدہ بات ہے۔منہ میں پانی ڈال کر کلی کرنا ہوتا ہے۔مسواک کرنے سے منہ کی بدبو دور ہوتی ہے۔دانت مضبوط ہو جاتے ہیں اور دانتوں کی مضبوطی غذا کے عمدہ طور پر چبانے اور جلد ہضم ہو جانے کا باعث ہوتی ہے۔پھر ناک صاف کرنا ہوتا ہے ناک میں کوئی بدبو داخل ہو، تو دماغ کو پراگندہ کر دیتی ہے۔اب بتلاؤ کہ اس میں برائی کیا ہے۔اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی حاجات لے جاتا ہے اور اس کو اپنے مطالب عرض کرنے کا موقع ملتا ہے۔دُعا کرنے کے لئے فرصت ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ نماز میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے اگر چہ بعض نمازیں تو پندرہ منٹ سے بھی کم میں ادا ہو جاتی ہیں۔پھر بڑی حیرانی کی بات ہے کہ نماز کے وقت کو تضیع اوقات سمجھا جاتا ہے۔جس میں اس قدر بھلائیاں اور فائدے ہیں اور اگر سارا دن اور ساری رات لغو اور فضول باتوں یا کھیل اور تماشوں میں ضائع کر دیں تو اس کا نام مصروفیت رکھا جاتا ہے۔اگر قوی ایمان ہوتا ، قوی