فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 611

فقہ المسیح — Page 47

فقه المسيح 47 علم فقہ اور فقہاء نزد یک خود کافر ہے۔مگر چند روز کے بعد عام لوگ خود بخود ہی میرے پیچھے نماز پڑھنے لگ گئے۔اس کے بعد جب میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ میاں نور محمد ! تم کولوگ وہابی کہتے ہیں۔تم جواب دیا کرو کہ میں حضرت پیرانِ پیر کا مرید ہوں اور ان کی کتاب ม غنیۃ الطالبین پڑھ کر اُن کو سنایا کرو اور حضرت صاحب ہمیشہ جناب پیرانِ پیر اور امام غزالی کی تعریف فرمایا کرتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 12 ، 13 ) حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب کا حنفی ہونے کا اعلان حضرت مرزا بشیر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ حافظ روشن علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی دینی ضرورت کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو یہ لکھا کہ آپ یہ اعلان فرما دیں کہ میں حنفی المذہب ہوں حالانکہ آپ جانتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب عقید تا اہل حدیث تھے۔حضرت مولوی صاحب نے اس کے جواب میں حضرت صاحب کی خدمت میں ایک کار ڈارسال کیا جس میں لکھا بہ سے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید که سالک بے خبر نبود ز راه و رسم منزلها اور اس کے نیچے ” نورالدین حنفی کے الفاظ لکھ دیئے۔اس کے بعد جب مولوی صاحب حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت صاحب نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ مولوی صاحب حنفی مذہب کا اصول کیا ہے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اصول یہ ہے کہ قرآن شریف سب سے مقدم ہے۔اگر اس کے اندر کوئی مسئلہ نہ ملے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل وقول کو دیکھنا چاہیے۔جس کا حدیث سے پتا لگتا ہے اور اس کے بعد اجماع اور قیاس سے فیصلہ کرنا چاہیے۔حضرت صاحب نے فرمایا تو پھر مولوی صاحب آپ کا کیا مذہب ہے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرا بھی یہی