فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 611

فقہ المسیح — Page 46

فقه المسيح 46 46 علم فقہ اور فقہاء دیا۔جس میں رفع یدین آمین وغیرہ کے مسائل تھے اور جواب کے لئے فی مسئلہ دس روپیہ انعام مقرر کیا تھا۔دس مسائل تھے۔حضرت صاحب نے مجھے سنایا اور فرمایا کہ دیکھو یہ کیسا فضول اشتہار ہے۔جب نماز ہر طرح ہو جاتی ہے تو ان باتوں کا تنازعہ موجب فساد ہے۔اس وقت ہمیں اسلام کی خدمت کی ضرورت ہے نہ کہ ان مسائل میں بحث کی۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 541) فقہی اختلافات کی بنیاد پر کافر کہنا درست نہیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حافظ نورمحمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہمارے گاؤں میں ایک کشمیری مولوی جو حافظ قرآن بھی تھے تشریف لائے اور کئی روز تک وہ اپنے وعظ میں غیر مقلدین یعنی اہل حدیث کے خلاف تقریریں کرتے رہے۔ہم بھی غیر مقلد تھے۔مولوی صاحب اعلانیہ کہا کرتے کہ اپنے فوت شدہ بزرگوں سے مدد طلب کرنا جائز ہے اور جس قدرنمازیں تم نے غیر مقلدوں کے پیچھے پڑھی ہیں سب کی سب دوبارہ پڑھنی چاہئیں اور ثبوت میں قرآنی آیات يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ (المائده: 36 ) پیش کرتے تھے۔میں نے اُن مولوی صاحب سے پوچھا کہ اس وسیلہ سے آپ کون سا وسیلہ مراد لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نیک عملوں اور فوت شدہ بزرگوں کا وسیلہ۔میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو مشر کا نہ تعلیم نہ دیں۔اس بات پر اس نے میرے ساتھ سخت کلامی کی اور گاؤں کے لوگوں کو برانگیختہ کیا۔جس پر گاؤں کے لوگ ہم سے الگ نماز پڑھنے لگے۔صرف میں اور میرے والد ہی اکٹھی نماز پڑھتے تھے۔میرے والد صاحب نے قادیان جا کر حضرت صاحب سے کہا کہ جناب میں نے تو اپنا لڑکا مسلمان بنانے کے لئے آپ کی خدمت میں چھوڑا تھا لیکن اب تو لوگ اس کو کافر کہتے ہیں۔آپ نے اس وقت ایک سرخ کاغذ پر فتویٰ لکھوا کر میرے والد صاحب کو دیا کہ جولوگ آمین بالجبر ،الحمدللہ ، رفع یدین اور فاتحہ خلف الامام کے پڑھنے پر کسی کو کافر کہے، وہ امام ابوحنیفہ کے