فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 77
میں دو مرتبہ ہے لیئے غرض جن حالات میں طلاق دے کہ رجوع کرنے کا حق باقی رہے ان حالات میں دی گئی طلاق کوفتہ کی اصطلاح میں طلاق رجعی " کہتے ہیں۔طلاق رجعی کے بعد عدت کے دوران میں خاوند کو یہ حق ہے کہ وہ طلاق واپس لے لے جیسا کہ رمایا: :- وبعولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَةِ هِنَ فِي ذلِكَ إِنْ أَرَادُوا صَلَاحًا اس لحاظ سے مرد کا ایک طرفہ طور پر طلاق واپس لے لینا ہی رجوع کے لئے کافی ہے کیونکہ ابھی سابقہ نکاح قائم ہے اور بجلی انقطاع نہیں ہوا۔رجعی طلاق گویا ایک معلق طلاق ہے۔عدت کے دوران اسے واپس لیا جا سکتا ہے، لیکن عدت گزرنے کے بعد یہی طلاق بائن ہو جائے گی۔ب - طلاق بائن : وہ طلاق ہے جس کے نتیجہ میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اور خاوند کو عدت کے اندر رجوع کا حق باقی نہیں رہتا البتہ باہمی رضا مندی سے عدت کے دوران اور عدت گزرنے کے بعد دونوں صورتوں میں دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔مثلاً قبل از رخصتانه یعنی مباشرت کا موقع ملنے سے پہلے طلاق دینا "بائن طلاق کے حکم میں ہے۔فقہاء نے خلع، مہارا کیے اور فسخ نکاح کو بھی طلاق بائن نے حکم میں رکھا ہے یہ اسی طرح رجعی طلاق عدت گذرنے کے بعد طلاق بائن بن جاتی ہے اس قسم کی طلاق کے بعد نیا نکاح ہو سکتا ہے۔ج - طلاق بتہ :- احکام قرآنی کے مطابق نکاح کے نتیجہ میں مرد کو تین طلاق کا حق ملتا ہے۔یہ حق کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس بارہ میں فقہاء کے تین مسلک ہیں :- ا۔ایک مسلک یہ ہے کہ مرد کو اختیار ہے کہ وہ یہ حق جس طرح چاہیے۔استعمال کرے چاہے تو بیک وقت یہ کہہ کر اپنا حق استعمال کرلے کہ " تجھے تین طلاق یا تجھے طلاق، تجھے طلاق ، تجھے طلاق۔یا وقفہ وقفہ کے بعد الگ الگ اوقات میں تین بار یہ حق استعمال کرے ہر طرح اسے اختیار ہے۔ه الطَّلَاقُ مَرَتْنِ فَإِمْسَاكُ بِمَعْرُونٍ اَوْ تَسْرِيحُ بِاِحْسَانِ (سورة البقره آیت ۲۳۰) کے سورة البقره آیت ۲۲۹ مبارات : اظہار برات، بے زاری کا اظہار که تفصیل کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۴۴