فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 76 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 76

جب کہ عورت حالت طہر میں ہو مرد صرف ایک طلاق دے۔اس طلاق کے بعد خاوند عدت کے اندر بغیر کسی زائد شرط کے رجوع کر سکتا ہے یعنی اس طلاق کو واپس لے سکتا ہے اور عورت کو حسب سابق اپنی بیوی کے طور پر رکھ سکتا ہے۔طلاق بائن طلاق بائن وہ طلاق ہے جس میں خاوند رجوع تو نہیں کر سکتا البتہ عدت کے دوران یا عدت کے بعد بیوی کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔مثلاً نکاح کے بعد قبل از رخصتانہ و خلوتِ صحیحہ طلاق دے یا بیوی کی طرف سے مالی معاوضہ لے کر اسے طلاق دے یا طلاق رجعی کے بعد عدت گذر جائے تو طلاق کی ان سب صورتوں کو طلاق بائن کہتے ہیں۔طلاق به طلاق بتہ وہ طلاق ہے جس میں نہ رجوع ہو سکتا ہے نہ دوبارہ نکاح جائز ہے گویا یہ طلاق فریقین کے درمیان قطعی تفریق کا باعث بن جاتی ہے اور ایسی ہی طلاق پر " حَتَّى تُنْكِحَ زَوْجًا غيرة کی پابندی عائد ہوتی ہے۔تشریح طلاق کی ان تینوں قسموں کی تشریح علی الترتیب درج ذیل ہے:۔د - طلاق بھی :- طلاق کے حق کو استعمال کرنے کے بارہ میں اسلام کی اصولی ہدا ہے کہ مرد عورت کے طہر کے ایام میں صرف ایک طلاق دے اس کے نتیجہ میں تین قروء یعنی تین حیض عدت گزرنے کے دوران اگر خاوند چاہے تو وہ بغیر کسی شرعی روک کے رجوع کر سکتا ہے لیے اور عدت گزرنے کے بعد گو علیحدگی مکمل ہو جائے گی، لیکن اگر یہ دونوں چاہیں تو باہمی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔اس طرح طلاق دے کر اس کے بعد عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق آیات قرآنی کی روشنی وبعولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِهِنَ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا اصلاحا (سورۃ البقره آیت ۲۲۹)