فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 58 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 58

۵۸ دفعہ نمبر ۲ تعدد ازدواج مرد شرعی ضرورت اور عدل و مساوات کی شرائط کی پابندی کے ساتھ ایک سے زائد نکاح کر سکتا ہے لیکن بیک وقت چار سے زائد بیویاں نہیں رکھ تشریح سکتا ہے قانون فطرت اور معاشرہ کے بعض مخصوص حالات کے پیش نظر تعدد ازدواج ایک اہم معاشرتی ضرورت ہے۔اسلام جو کہ دین فطرت ہے اس نے اس ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا اور بعض شرائط کی پابندی کے ساتھ تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے۔اگر کسی بھی صورت میں تعدد ازدواج کی اجازت نہ ہو اور اسے ایک دینی حکم قرار دیا جائے تو معاشرے کو سخت مشکلات اور نا گفتہ بہ قباحتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس بناء پر قرآن کریم نے بعض مصالح کے پیش نظر مردوں کو ایک سے زائد شادیوں کی اجازت دی ہے ایسے مصالح کی بعض صورتیں یہ ہو سکتی ہیں۔: قومی حالات کا تقاضا مثلاً کسی جنگ کے نتیجہ میں مردوں کی تعداد بہت کم ہو جائے اور عورتوں کی تعداد نسبتا بہت زیادہ ہو جائے۔ب۔دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت بیمار ہو اور ازدواجی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے قابل نہ ہو ایسی صورت میں اگر مرد دوسری شادی کرنے کی اجازت چاہے تو عدل و مساوات کی شرط کے ساتھ اسے دوسری شادی کی اجازت نہ دینا انسانی فطرت پر ظلم کے مترادف اور جذبہ تراحم کے خلاف اقدام ہوگا۔له سورة النساء آیت نمبرم