فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 47
۴۷ معاہدہ نکاح میں مہر کی عدم تعیین کی صورت میں بوقت تنازعہ قاضی جو مہر فریقین کی حیثیت کے مطابق متعین کرے وہ مہر مثل “ ہے۔تشریح مر مثل در حقیقت فقهاء کی وضع کردہ اصطلاح ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ بوقت نکاح اگر کیسی عورت کا مہر مقررنہ ہوا ہو تو قاضی عورت اور مرد کے حالات کو دیکھ کر جو مر مقرر کرے وہ مہر مثل کہلاتا ہے، صاحب ہدایہ مہر مثل کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔مہر مثل کی تعیین کے لئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ حسن و جمال، سیرت و کر دار اور علم و عمل کے لحاظ سے اس عورت کی جو رشتہ دار عورتیں اس کے ہم یا یہ ہیں ان کا مہر کتنا مقررہ ہوا تھا۔اس جائزہ میں عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عورتوں کو مد نظر ر کھا جائے گا مثلاً بہنیں، پھوپھیاں اور چا زاد بہنیں وغیرہ ماں کی طرف سے رشتہ دار عورتیں مثلاً خالائیں ، خالہ زاد بہنیں وغیرہ کو اس جائزہ میں مد نظر نہیں رکھا جاتا ہے بعض فقہاء کے نزدیک مہر مثل کی تعیین کے لئے عورتوں کے شوہروں کے حسب اور ان کی مالی استطاعت کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہئیے۔کے ہمارے نزدیک تنازعہ کی صورت میں قاضی حالات کا جائزہ لے کر جس مقدار مہر کا فیصلہ کرے گا وہی مہر مثل ہو گا۔جائزہ کے انداز حالات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں تنازعہ کی بالعموم مندرجہ ذیل ۱۲۸ له كتاب الفقه على المذاهب الاربعة كتاب النكاح مبحث ما يعتبر به مهر مثل ما هدايه كتاب النكاح من مطبع مجیدی کانپور۔له فتح القدير جلد ٢ منم