فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 46 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 46

3 میں بھی امام ابو حنیفہ کے نزدیک عورت کا یہ اختیار باقی رہتا ہے کہ وہ کسی وقت بھی تا ادائیگی مرحقوق زوجیت ادا کرنے سے انکار کر دے۔اگر رخصتانہ سے قبل طلاق دے دی جائے تو عورت نصف مہر مقررہ کی حقدار ہوگی جیسا کہ فرمایا اِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنَصُفُ مَا فَرَضْتُمْ له یعنی اگر تم انہیں قبل اس کے کہ تم نے انہیں چھوڑا ہو لیکن مہر مقرر کر دیا ہو طلاق دیدو تو اس صورت میں جو مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا آدھا ان کے سپرد کرنا ہوگا۔اگر رخصتانہ سے قبل خاوند مر جائے تو عورت پورے مقررہ مہر کی حقدار ہوگی اور وراثت سے بھی اسے حصہ ملے گا۔لہ اگر نکاح کے وقت مہر مقرر نہ ہوا ہو اور قبل از رخصتا نہ طلاق ہو جائے یا خاوند فوت ہو جائے تو پھر مہر مثل کا نصف یا پورا مہر مثل ادا کرنا واجب نہیں حسب استطاعت مناسب تحائف دے کر عورت کو رخصت کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :- لا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً ۖ وَمَتَّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدْرُهُ جَمَتَاعًا بِالْمَعْرُونِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ له یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو اس وقت بھی طلاق دے دو جبکہ تم نے انہیں چھوا تک نہ ہو یا مہر نہ مقرر کیا ہو۔اور چاہیئے کہ اس صورت میں تم انہیں مناسب طور پر کچھ سامان دے دو۔یہ امر دولتمند پر اس کی طاقت کے مطابق لازم ہے اور نا دار پر آسکتی طاقت کے مطابق۔ہم نے ایسا کہ نانیکو کاروں پر واجب کر دیا ہے۔له سورة البقره آیت ۲۳۸ له الاحوال الشخصيه على المذاهب الخمسه ص كتاب الفقه على المذاهب الاربعه من ه سورة البقره آیت ۲۳۷