فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 29 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 29

۲۹ ان کی اولاد سے جائز ہے۔پھوپھی اور خالہ وغیرہ کی حرمت نفق صریح سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا۔وَعَمْتُكُمْ وَخُلتُكُمْ یعنی تم پر تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں بھی حرام ہیں۔دادا کی بہن یعنی باپ کی پھوپھی اور نانا کی بہن یعنی ماں کی پھوپھی اور اسی طرح باپ کی خالہ اور ماں کی خالہ بھی اس محرمت میں شامل ہیں کیونکہ رشتہ میں وہ بھی پھوپھیاں اور خالائیں ہی ہیں۔پھوپھی اور خالہ وغیرہ کی اولاد سے شادی جائز ہے کیونکہ آیت حرمت میں جہاں بہنوں کی حرمت کا ذکر ہے وہاں بہنوں کی اولاد کی حرمت کا ذکر بھی واضح الفاظ میں ہے لیکن خالہ اور پھوپھی کی حرمت کے ساتھ ان کی اولاد کی حرمت کا ذکر نہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ پھوپھی اور خالہ کی اولاد سے نکاح جائز ہے اور تعامل بھی اس کے مطابق ہے کیونکہ پھوپھی اور خالہ کی حرمت اور ان کی اولاد کی عدم حرمت ہر کسی کے کے فقہاء کے درمیان متفق علیہ ہے۔ابدی محرمات ( بر بنائے مصاہرت ) : اپنے باپ کی منکوحہ سے نکاح ابدی حرام ہے ، باپ کی منکوحہ سے نکاح کی حرمت نقض قرآنی سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا :- لا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ ا باؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ له یعنی ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں۔اس حکم میں دادا کی منکوحہ اور نانا کی منکوحہ شامل ہیں کیونکہ عربی لغت کے مطابق " آب " سے مراد باپ اور باپ سے اوپر کے تمام آباد یعنی دادا نانا وغیرہ بھی شامل ہیں لہذا ان کی منکوحہ بھی باپ کی منکوحہ کے حکم میں شامل ہوگی۔باپ کی منکوحہ کی حرمت محض عقد صحیح سے لازم آجاتی ہے مجاموت اور مباشرت شرط لازمی نہیں۔ب :۔ساس۔ساس کی ماں۔ساس کی دادی ونانی وغیرہ سے نکاح ابدی حرام ہے۔ساس اور ساس کی ماں وغیرہ کی حرمت بھی نص صریح سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا :- سورة النساء آیت ۲۳