فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 28
۲۸ دادی وغیرہ۔ماں کی مرمت نص صریح سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا :- حُرمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ یعنی تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں۔امهات ، امم کی جمع ہے جس کے معنے ہیں ماں۔اور اس جگہ حقیقی ماں کے علاوہ نانی اور دادی وغیرہ بھی مراد ہیں۔اِس طرح نانی اور دادی سے صرف ماں کی ماں اور باپ کی ماں مراد نہیں بلکہ ماں کی ماں اور اس سے اوپر کی مائیں یعنی نانی پڑ نانی وغیرہ اور دادی سے دادی پڑ وادی وغیرہ سبھی مراد ہیں۔ب :۔وہ عورتیں جو مرد کی فرغ میں شمار ہوتی ہیں ان سے نکاح ابدی حرام ہے مثلا بیٹی ، ہوتی، نواسی وغیرہ۔بیٹی کی حرمت نص صریح سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا :- حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ وَبَنْتُكُمْ ہے یعنی تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں حرام ہیں۔بیٹی کے مفہوم میں نواسی ، پوتی وغیرہ بھی آجاتی ہیں۔احادیث میں ان سب کے لئے بنت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ج :- وہ عورتیں جو باپ یا ماں کی فرع یعنی اولاد ہیں ان سے نکاح ابدی حرام ہے مثلاً بہن ، بھانجی بھیجی۔بہنوں کی حرمت اور بھانجیوں اور بھتیجیوں کی محرمت نص صریح سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا:۔وَآخَوتُكُمْ۔۔۔۔۔وَ بَنتُ الْآخِر وَبَنْتُ الأُخْتِ لَه یعنی تم پر تمہاری بہنیں حرام ہیں اسی طرح بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں یعنی بھتیجیاں اور بھانجیاں سب حرام ہیں۔بہن سے مراد تمام قسم کی بہنیں ہیں خواہ وہ حقیقی ہوں یا سوتیلی۔اور سوتیلی بہن سے مراد باپ کی طرف سے یا ماں کی طرف سے ہر دو طرح کی بہنیں ہیں کیونکہ ان سب پر بہن کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔بہنوں اور بھائیوں کی اولاد مثلاً بھانجی بھتیجی اور ان کی اولاد سب ابدی حرام ہیں۔2: وہ عورتیں جو مرد کے اپنے اصل بعید ( دادا پڑدادا وغیرہ) کی فرع قریب ہوں صرف ان سے نکاح ابدی حرام ہے ان کی اولاد سے نہیں مثلاً پھوپھی اور خالہ وغیرہ سے تو نکاح حرام ہے لیکن لے لے کے سورۃ النساء آیت ۲۴ :