فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 18
اور اصولاً وجوب پر دلالت کرتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم کا ارشاد ہے :- وَإِن خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتِى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنى وَتُلتَ وَرُبع : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا له یعنی اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم بیوہ عورتوں سے انصاف نہ کر سکو گے تو جو صورت تمہیں پسند ہو کر لو یعنی حسب پسند دو دو سے اور تین تین سے اور چار چار سے نکاح کر لولیکن اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی عورت سے یا اُن لونڈیوں سے جو تمہارے ہاتھوں میں ہیں نکاح کرو۔یہ طریق اُس بات کے بہت قریب ہے کہ تم ظلم و تعدی سے بچے جاؤ۔اس ارشادربانی میں " فانکحوا کے صیغہ سے صاف ظاہر ہے کہ صاحب استطاعت کیلئے نکاح واجب ہے۔دفعہ نمبر ۲ مقاصد نکاح نکاح کا مقصد بقاء نسل انسانی تحفظا عفت حصول مودت اور سکینت پر مبنی پر امن عائلی زندگی کی ضمانت مہیا کرنا ہے۔تشریح قرآن کریم میں شادی شدہ مرد اور عورت کو محصین اور محصنہ کہا گیا ہے یہ جس کے معنے قلعہ بند له سورة النساء آیت م له سورة النساء آیت ۲۵