فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 132 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 132

باب یازدهم ۱۳۲ مفقود الخبر مفقود الخر کومیت قرار دینے اور اس کی وفات کی تاریخ معین کرنے کا حق قاضی کو ہے جو حسب حالات فیصلہ کرے گا اور اسی کے مطابق وراثت اور دیگر شرعی احکام کا نفاذ ہو گا اس بارہ میں ملکی قانون کو بھی مد نظر رکھنا مناسب ہے۔بیٹے باب دوازدهم ولد الملاعنة اگر خاوند اور بیوی میں نعان ہوا اور قاضی کے فیصلہ کے نتیجہ میں بچہ ان کی طرف منسوب ہو تو بچہ اور مای کومہ باپ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے بلکہ یہ بچہ اور اس کی مانی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔باب سیزدهم تیم پوتے انواس کی میشی کوئی نقص صریح یتیم پوتے وغیرہ کی توری یا عدم توریت کی موجود نہیں البتہ معروف تعامل ہمیں یہی رہا ہے کہ چوں کی موجودگی یں یتیم پوتا وغیرہ اپنے دادا کا وارث نہیں ہوتا تاہمار را نمی یک عمومی ترمیم کیا جائے کوئی یتیم و اونتی پیر محروم امارت نہیں رہ سکتے اور اگر داد کسی اتفاقی حادثہ کی وجہ سے وصیت ن کر سکے تو قاضی یہ ترکہ تک ایسے مقامی کو دلاسکتا ہے بشرطیکہ دیگر ورثاء کو نقصان نہ پہنچے۔تمت بالخير فالحمد لله رب العلمين لے مرتفصیل کے لئے دیکھئے بحث مفقود الخبر دفہ نمبر ۴۲ کے مثلاً اس کے باپ کو میراث میں سے جو حصہ ملتا وہ کم ہو اس سے جو اُسے وصیت کی صورت میں مل رہا ہے۔گویا اصول یہ ہوا کہ وصیت اس کے میراث کے حصہ سے زیادہ نہ ہو؟