فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 125 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 125

ج۔اگر دو یا دو سے زائد حقیقی بہنیں ہوں تو ان کو ترکہ کا یہ حصہ ملے گا۔-2- اگر متولی کی بیٹیاں یا پوتیاں ہوں تو حقیقی میں عصبہ بن جائے گی یعنی ذوی الفروض کی ادائیگی کے بعد بقیہ ترکہ اس کو ملے گا۔8 - اگر متوفی کے حقیقی بھائی بھی موجود ہوں تو پھر بہنوں اور بھائیوں میں بحیثیت عصبہ تہ کہ ایک اور دو کی نسبت سے تقسیم ہو گا۔- علاقی سمن (دوسری والدہ سے بہن) حقیقی بہن کی غیر موجودگی میں علاتی بہی کا حق میراث وہی ہے جو کہ حقیقی بہن کا ہے۔اگر متوفی کی صرف ایک حقیقی بہن ہو تو علاقی بہن کو کچھ نہیں ملے گا البتہ ان کے ساتھ اگر علاتی بھائی موجود ہو تو علاتی بہنیں بھی عصبہ بن جائیں گی اور ان سب میں بقیہ تر کہ ایک اور دو کی نسبت سے تقسیم ہوگا یعنی مرد کے دو حصے اور عورت کا ایک حصہ ہو گا۔۹ - خاوند ور اگر متوفیہ کی اولاد موجود ہو تو خاوند کو ترکہ کا ہی حصہ ملے گا۔ب - اگر متوفیہ کی اولاد موجود نہ ہو تو خاوند کو ترکہ کا یہ حصہ ملے گا۔۱۰ - بیوی 1- اگر متوفی کی اولاد موجود ہو تو بیوی کو ایک ہو یا زائد ترکہ کا ہا حصہ ملے گا۔ب - اگر اولاد موجود نہ ہو تو بیوی کو ( ایک ہو یا زائد) ترکہ کا یہ حصہ ملے گا۔اختیافی (مادری) بہن بھائی اگر متوفی کی نہ اولاد ہو نہ باپ دادا اور نہ ہی حقیقی یا علاتی بھائی بہنیں ہوں تو اخیافی (مادری) نہ ہونہ پاپایا اور ان ای عالی بھائی ہوں تو بہن بھائی حسب ذیل طریق پر وارث ہوں گے :- -1- اگر منوٹی کا ایک اخیافی بھائی یا ایک اخیافی بہن ہو تو اس کو تو کہ کا پا حصہ ملے گا۔ب۔اگر متوفی کے دو یا دو سے زائد اخیافی بہن بھائی ہوں توسب ترکہ کے یا میں حصہ برابر شریک ہوںگے۔