فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 118
-۳- وصیت کی ادائیگی A 1 - وصیت و ہی درست ہے جو بقائمی ہوش و حواس ہو۔۔۔ب۔اگر متوفی نے کوئی وصیت کی ہو تو ادائیگی قرضہ کے بعد اور قسیم ترکہ سے پہلے وہ وصیت ادا ہوگی۔ج - وصیت زیادہ سے زیادہ ترکہ کے ایک تہائی حصہ تک کی جاسکتی ہے۔د وارث کے حق میں وقیت درست نہیں سوائے خاوند کے جو اپنی بیوی کی رہائش کے بارہ کے حق سوائے خاوند کے جو اپنی پوری میں وصیت کر سکتا ہے بلکہ ایسی وصیت کرنا اس کے لئے ضروری ہے لیے باب دوم ه مانع میراث ایسا امرمیں کی بناء پر ایک شخص جو عام حالات میں وارث بننے کا حقدار ہو وراثت سے محروم ہو جاتا ہے مانع میراث کہلاتا ہے مثلاً قتل :- قاتل اپنے مورث مقتول کے ترکہ کا وارث نہیں ہوگا کیونکہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا القَاتِلُ لا يرٹ کر قاتل اپنے مقتول مورث کا وارث نہیں ہو سکتا۔تشریح اسلامی نظامِ وراثت کی بنیاد رکھی رشتے ہیں انہی کی بنیاد پر وراثت جاری ہو گی بشرطیکہ وارث اور مورث تناصر اور تضامن کے ایک سلسلہ میں منسلک ہوں چنا نچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے :۔سورة البقره آیت ۲۴۱ له ترندی ابواب الفرائض