فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 114 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 114

۱۱۴ حق ساقط ہو سکتا ہے ایسی صورت میں حق حضانت از سیر کو متعین کیا جائیگا۔تشریح جیساکہ بیان ہو چکا ہے حق حضانت ایک عارضی حق ہے اور محض بچے کی بہبود اور بھلائی کے پیش نظر متعین کیا جاتا ہے اگر حضانت حاصل ہونے کے بعد کسی وقت بچے کی بہبودی متأثر ہوتی ہے تو حق حضانت ساقط ہو جاتا ہے۔مثلاً ماں اگر دوسری جگہ شادی کرلے تو اس کا حق حضانت " متاثر ہوگا۔بعض فقہاء کے نز دیک اگر ماں نے بچے کے ذی محرم رشتہ دار سے شادی کی ہے تو حق حضانت قائم رہے گا اور اگر بچہ کے غیر محرم سے شادی کی ہو تو حق حضانت ساقط ہو جائے گا۔بعض فقہاء کے نزدیک دوسری شادی سے حق حضانت صرف اسی صورت میں ساقط ہوتا ہے جب دوسرا خاوند خواہ محرم ہو یا غیرمحرم بچے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہ ہو یا وہ بچہ کا خیر خواہ نہ ہو ایک حدیث سے اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔ایک موقع پر حاضنہ جو کہ بچے کی خالہ تھی اس نے بچے کے غیر محرم سے شادی کی ہوئی تھی مگر اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضانت کا حق اس کی خالہ کو ہی دلایا کیونکہ اس کا خاوند بچہ کی پرورش کی ذمہ داری لینے پر تیار تھا بلکہ وہ یہ حق حاصل کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا تے بهر حال ائمہ فقہ کا اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ اصل معیار بچے کی بہبود ہے۔اگر ماں کی دوسری شادی سے بچہ کی بہبود متاثر نہ ہوتی ہو اور سوتیلا باپ بچے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہو تو یہ حق ساقط نہیں ہوگا۔فقہ احمدیہ بھی اِسی مسلک کو درست مانتی ہے اور قرار دیتی ہے کہ ماں کی دوسری شادی حق حضانت پر از سر نو غور کرنے کی وجہ تو بن سکتی ہے محض شادی سے حق حضانت ساقط نہیں ہو سکتا خواہ بچہ کا یہ سوتیلا باپ اس کا محرم ہو یا غیر محرم - نیل الاوطار باب من احق بكفالة الطفل مس