فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 110 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 110

11۔سے آزاد ہو سکتا ہے۔حضانت کا حق در اصل بچے کی بہبود کے پیش نظر نیز والدین کے جذباتی اور طبعی میلانات کو مد نظر رکھ کر قائم کیا گیا ہے اور یہ حق بچے کی رضاعت ، جذباتی آسودگی ، متوازن نشو و نما اور اخلاقی و جسمانی تربیت کے تقاضوں کے مطابق قائم یا ساقط ہوتا ہے۔دفعہ نمبر ۵۰ ه مدت حضانت بیر خواہ لڑکا ہو یا لڑ کی اس کی حضانت کا حق اس کی عمر توسال ہو جانے رہے گا سوائے اس کے کہ یہ حق کسی وجہ سے اس سے قبل ساقط کے کہ یہ تک قائم رہے گا۔ہو جائے۔تشریح بعض فقہاء کے نزدیک لڑکے کے لئے حضانت کی عمر سات سال تک اور عض کے نزدیک دو سال تک ہے۔اسی طرح لڑکی کے لئے بعض فقہاء کے نزدیک عمر حضانت سات سال تک اور بعض کے نزدیک سن بلوغت تک ہے مگر فقہ احمدیہ کے مطابق ہر دو صورتوں میں یہ حق نو سال کی عمر تک قائم رہے گا اس کے بعد یہ حق ختم ہو جائے گا اور بچہ باپ کو لوٹا دیا جائے گا۔در اصل شیر خوارگی اور اس کے معا بعد کے دور میں بچے کی دیکھ بھال اور اس کی کمزور طبعی حالت کے پیش نظر بچے کی نشو و نما کے لئے ماں ایک طبعی اور فطری مناسبت رکھتی ہے اور اس دور میں ماں کی گود بچے کی جذباتی آسودگی، صحت اور متوازن نشو و نما کے لئے ضروری ہوتی ہے اسلئے اس دور میں بچہ کی بہبود کے پیش نظر ماں کے حق کو فائق تسلیم کیا گیا ہے مگر لڑکپن اور سن تمیز کو پہنچنے کے بعد بچے کی ذہنی ، اخلاقی اور جسمانی تربیت کے تقاضے بدل جاتے ہیں جو باپ کی کفالت کے متقاضی ہیں اس لئے بچے کا باپ کو لوٹا دیا جانا ہی احسن ہے۔