فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 71
نماز کی پانچویں شرط J صحت نماز کے لئے نیت بھی ضروری ہے۔نیت کے معنے ارادہ کے ہیں۔نماز شروع کرتے وقت دل میں یہ ارادہ ہونا چاہیے کہ وہ کسی وقت کی اور کونسی نماز پڑھ رہا ہے۔کیونکہ میں نمازہ کی نیت ہوگی وہی نماز اس کی ہوگی۔ظہر کے وقت اگر نیت یہ ہے کہ چار رکعت فرض شروع کرنے لگا ہے تو فرض نماز ہوگی۔اگر نیت چار رکعت یا دو رکعت سنت کی ہے تو سنت نماز ہوگی۔اگر نیت نقل کی ہے تو نفل اور اگر نیست عصر کی فرض نماز اور جمع کرنے کی ہے تو اس کے مطابق اس کی نماز ادا ہوگی۔غرض نیت کے بدلنے سے نماز کی نوعیت بدل جائے گی۔نیت کا تعلق دل سے ہے اس لئے دل میں یہ طے ہونا چاہیے کہ وہ کس وقت کی اور کتنی رکعت نماز شروع کرنے لگا ہے۔منہ سے نیت کے الفاظ ادا کرنے ضروری نہیں۔بلکہ بعض صورتوں میں تو منہ سے اظہار نیت کے الفاظ نکالنے کو مستحسن بھی نہیں سمجھا گیا۔نیست میں خلوص کا مفہوم بھی موجود ہے۔اگر انسان خدا کی خاطر نماز پڑھے گا تو اس کی نماز خدا کے حضور مقبول ہوگی اور اگر وہ دکھاو سے یا کسی اور کے ڈر سے یا خوش کرنے کے لئے نماز پڑھے گا تو خدا تعالیٰ کے دربار سے اُسے کچھ نہیں لے گا۔الغرض تمام دینی اعمال کا دار دیدار ظاہراً و باطنا نیت پر ہے اس لئے خُدا تعالیٰ کے حضور ہر ایک کے اعمال اسی میزان کے مطابق تئیں گے اور ہر ایک اسی کے مطابق بدلہ پائے گا :