فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 58
۵۸ جرابوں پر مسح کرنا جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے۔حکمت مسح کے لحاظ سے بھی اور صراحت حدیث کے لحاظ سے بھی اس کا جواز موجود ہے۔حکمت تو یہ ہے کہ پاؤں میں جو موزے یا جرابیں پہنی ہوئی ہیں انہیں بار بار اتارنا نہ پڑے۔حرج سے بچانا مقاصد شریعت کا بنیادی اصول ہے۔نیز حدیث میں آتا ہے :- عن مغيرة بن شعبة قال توضا النبي صلى الله عليه وسلم ومسيح على الجوربين والنعلين (ترمذی جلد امث باب مسح على الجوربين ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں اور تعلین پر سے فرمایا۔سوال: - شیعہ قرآنی آیت سے استدلال کرتے ہوئے پیروں پر مسح کرتے ہیں کیا یہ جائز ہے ؟ جواب : - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا عمل کسی آیت کے معنی کو معین کر دیتا ہے ہیں جب حدیثوں اور تاریخ کی کتابوں میں تواتر کے ساتھ مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صحابه وضوء میں پاؤں دھویا کرتے تھے اور مسیح صرف اسی صورت میں کرتے جبکہ موزے یا جرابیں پہنی ہوئی ہوتی تھیں تو پاؤں پر صرف مسح کرنے کا حکم قرآن سے کس طرح ثابت ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کام اللہ تعالیٰ کے کلام کے معنی بتانا بھی تھا اور آپ نے وارجلكم الی الکعبین کے جو معنے قولاً وعملاً بتائے وہ وہی تھے کہ پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا جائے۔نیز اگر پاؤں پر مسح کرنا ہی مقصد تھا تو پھر الی الکعبین کہنے کی کیا ضرورت تھی اس طرح تو یہ ایک بے معنی کلام بن جاتا ہے۔باقی عربی کے اسلوب کے لحاظ سے پاؤں دھونے کے معنے لینے میں کوئی غلطی نہیں۔ماہرین علوم کا ایک مانا ہوا قاعدہ ہے کہ بعض اوقات قریب ہونے کی وجہ سے پہلے کا اعراب دوسرے پر آجاتا ہے اس کو اصطلاح میں جو جوار کہتے ہیں علاوہ ازیں اس کی دوسری قرأت ارحکم یعنی نصب کے ساتھ بھی ہے اور یہ قرأت متواتر ہے جس سے واضح ہے کہ اس کا تعلق اغسلوا سے ہے نہ کہ امسحوا سے ہر حال وضوء ایک سنت متواتر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے جب سے یہ آیت نازل ہوئی اس پر مسلمان عمل کرتے پہلے آئے ہیں۔روزانہ اس کام کو کئی بار کیا جاتا ہے ایسے متواتر عمل کے بارہ میں یہ سمجھنا کہ مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا کہ وہ پاؤں دھوتے ہیں یا مسح کرتے ہیں بالکل خلاف واقع بات ہے اور یہ ثابت کرنا کہ