فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 46
ہو گا۔دن کے کچھ حصوں میں نماز پڑھنے سے منع کرتے ہیں یہ حکمت ہے کہ تا اس طرف توجہ ہو کہ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے خدا جب کسے نماز پڑھو نماز پڑھیں گے اور جب کسے نماز نہ پڑھو تو با وجود عمده حالات میتر آنے کے نماز پڑھنا کوئی نیکی نہ ہوگی کیو نکنیکی اور عیادت وہی ہے جسے اللہ تعالی پسند کرے۔ان اوقات میں ممانعت نماز کی ایک اور حکمت یہ ہے کہ ان میں سے بعض اوقات میں خصوصاً طلوع و غروب آفتاب کے وقت مشرک اور بت پرست اپنے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں گویا یہ اوقات فروغ شرک و کفر کا نشان بن گئے تھے اس لیے توحید کے پرستاروں کو کفر و شرک کے اس شعار سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی اور اسلام کی مخصوص عبادت کے صحیح صحیح اوقات جو اپنے اندر روحانی فوائد رکھتے تھے مقرر کئے گئے اس ممانعت سے اس حکمت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ کوئی وقت ایسا بھی ہونا چاہیے جس میں انسان کا دماغ فارغ ہو ورنہ مسلسل مصروفیت سے وہ بے کار ہو جائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا جب انسان نماز پڑھتے پڑھتے تھک جائے تو اسے چاہیئے کہ آرام کرے گویا اس مقصد کے پیش نظر بطور علامت یہ اوقات جبری فراغت کے رکھے گئے تاکہ کوئی وہمی جو میں گھنٹے ہی نماز پڑھنے میں نہ گار ہے اور اس کے لیے کچھ وقت ایسے بھی آجائیں مین میں وہ فارغ ہونے اور نماز چھوڑنے پر مجبور ہو۔