فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 35 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 35

قم 2" جواب۔ہمت نہیں ہارنی چاہیے بلکہ اس لذت کے کھوئے جانے کو محسوس کرنے اور پھر اس کو حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہیے جیسے چور مال اڈرا کر لے جاوے تو اس کا افسوس ہوتا ہے اور پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ آئندہ کو اس خطرہ سے محفوظ رہے اس لئے معمول سے زیادہ ہوشیاری اور مستعدی سے کام لیتا ہے اسی طرح پر جو خبیث زمانہ کے ذوق اور انس کو لے گیا ہے تو اسے کس قدر ہوشیار رہ سہنے کی ضرورت ہے اور کیوں نہ اس پر افسوس کیا جائے۔انسان جب یہ حالت دیکھے کہ اس کا انس و فوق جاتا رہا تو وہ بے فکر اور بے غم نہ ہو نماز میں ہے ذوقی کا ہونا ایک سارق کی چوری اور روحانی بیماری ہے۔جیسے ایک مریض کے منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے تو وہ فی الفور علاج کی فکر کرتا ہے۔اسی طرح پر جس کا روحانی مذاق بگڑ جاوے اس کو بہت جلد اصلاح کی فکر کرنی لازم ہے یا اے سوال :- ایک صاحب نے عرض کیا کہ نماز میں اگر مختلف خیالات پیدا ہوں تو کیا کیا جائے ؟ جواہے : " خیالات پیدا ہوں تو ان کا مقابل کرد حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ تم جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو یہ سمجھو کہ تم اپنا فرض ادا کر رہے ہو اگر تمہیں خشوع و خضوع نصیب ہو جائے تو یہ خدا تعالی کا ایک انعام ہوگا اور اگر خشوع وخضوع تنصیب نہیں ہوتا اور تم بار بار کوشش کرتے ہو کہ تمہارے دل میں خیالات پیدا نہ ہوں تو پھر بھی تم ثواب کے مستحق ہو۔کیونکہ تمہاری شیطان سے لڑائی ہو رہی ہے اور جو شخص لڑائی کر رہا مو وہ گنہگار نہیں ہوتا۔جو شخص اپنے خیالات میں لذت محسوس کر ہے اور کہے کہ اگر خیالات پیدا ہوتے ہیں تو بے شک پیدا ہوں وہ ضرور گنہگار ہے لیکن جو شخص ان خیالات کا مقابلہ کرتا ہے وہ خدا کا سیاہی ہے اور ثواب کا مستحق ہے یہ : فتادی مسیح موجود مل۔: - الفضل و رجون ۱۹۳۳ سه ؟