فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 370 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 370

٣٠٠ مال کو کھا جائے گی۔ظاہر ہے کہ قرض میعادی امانت وغیرہ کی صورت میں یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔اس لئے ایسے سرمایہ پر زکواۃ نہیں ہے۔نیزا کیسے حالات میں اگر نہ کواہ ضروری ہو تو کچھ عرصہ کے بعد سارا قرض اور ساری امانت زکواۃ میں ختم ہو جائے گی حالانکہ شریعیت کا یہ منشاء نہیں۔قرض بززكوة ایک شخص کا سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو پیر کسی شخص نے کسی کو قرضہ دیا ہوا ہے کیا اس کو زکواۃ دینی لازم ہے؟ فرمایا نہیں لے مکانات وجواہراتے پر زکواۃ رو سوال پیش ہوا کہ پانچ سوروپیہ کا حصہ ایک مکان میں ہے کیا اس حصہ پر رکواہ ہے یا نہیں ؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔جواہرات و مکانات پر کوئی زکوۃ نہیں۔مکارے اور تجار تھے مال پر زکوة ایک شخص کے سوال کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مکان خواہ ہزار روپیہ کا ہو اس پر زکواۃ نہیں اگر کرایہ پر چلتا ہو تو آمد پر زکواۃ ہے۔ایسا ہی تجارتی مال پر جو مکان میں رکھا ہے۔نہ کواۃ نہیں۔حضرت عمریض چھ ماہ کے بعد حساب لیا کرتے تھے اور روپیہ پر زکواۃ لگائی جاتی تھی " سے جماعتی چندہ اور زکواۃ سوال : اگر چندہ عام یا چندہ وصیت دینے والا یہ نیت کر لے کہ اس میں اس قدر زکواۃ بھی شامل ہے تو پھر کیا زکواۃ کی علیحدہ طور پر ادائیگی کی ضرورت ہے ؟ ه البدر ۲۱ فروری شندا - فتاوی مسیح موعود ها : سه : البدرم ا فروری ماده - فتادی مسیح موعود ها : البدر ۴ از فروری شکله - فتاوی مسیح موعود ها : _