فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 347
"سردار عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لدھیانہ نے کہ جو ایک ہندو رئیس ہیں اپنی عالی ہمتی اور فیاضی کی وجہ سے بطور امانت سے (۲۵ روپے بھیجے ہیں۔سردار صاحب موصوف نے ہندو ہونے کی حالت میں اسلام سے ہمدردی ظاہر کی ہے " اے راسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ہندو رانی کی نذر اور دعوت بھی قبول فرمائی۔حضور شاء میں دھاریوال کے سفر میں تھے کہ راستہ میں رانی ایشر کو نہ سکنہ دھام سردار جمیل سنگھ کی بیدہ ہو) کا خاص آدمی پیغام ہے کہ ملا کہ آپ میرے ہاں قیام فرما دیں۔چنانچہ حضرت اقدس نے اس کا پیغام منظور فرما لیا اور وہیں قیام فرما ئے۔۔۔۔۔بتھوڑی دیر کے بعد رانی ایشر کو رنے اپنے اہل کاروں کے ہاتھ ایک تھال مصری کا اور ایک باداموں کا بطور نذر پیش کیا اور کہلا بھیجا بڑی مہربانی فرمائی۔میرے واسطے آپ کا تشریف لانا ایسا ہے جیسے سردار جمیل سنگھ آنجہانی کا آنا۔حضر اقدس نے نہایت سادگی اور اس لہجہ میں جو ان لوگوں میں خداداد ہوتا ہے۔فرمایا کہ اچھا آپ نے چونکہ دعوت کی ہے یہ نذر بھی لے لیتے ہیں۔۲ سوال : حج بیت اللہ کے منظر کو فلما کہ آج کل سینما میں دکھایا جارہا ہے اس کے متعلق جماعتی ہدایت کیا ہے؟ جواب :- سینما دیکھنے کے بارہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کا اصولی ارشاد یہ ، اگر فلم حقیقی مناظر کی ہے تو کوئی اعتراض نہیں۔لیکن اگر وہ ایکٹنگ سے تیار کی گئی ہے تو ا سے دیکھتے کی اجازت نہیں“ سے (ii) سینما اپنی ذات میں برا نہیں بلکہ اس زمانہ میں اس کی چھ صورتیں ہیں۔وہ محزب الاخلاق ہیں۔اگر کوئی فلم کلی طور پر تبلیغی ہو یا تعلیمی ہواور اس میں کوئی حصہ تماشہ وغیرہ کا نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں؟ ہے تبلیغ رسالت سے : ملفوظات ص : سه : افضل ۲ جولائی شاه : شه : مطالبا تحریک جدید ۳۵ یہ