فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 346 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 346

۳۴۶ کا ثواب ملنے کے کیا معنے ؟ رہا مقامات مقدسہ کی زیارت کا سوال تو یہ مقصد تو بہر حال مکہ مکرمہ جانے سے حاصل ہو جاتا ہے اور نیت کے مطابق اس کا ثواب بھی ملے گا۔زیارت کرنے والے کو بھی اس کی نیت کے مطابق اور اس کے لئے پیسے دینے والے کو اس کی نیت اور حالت کے مطابق۔بہر حال اصول یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم بہتر تعلقات اور نیک غرض کے پیش نظر کسی مستحق مسلمان کو کوئی رقم دے تو اس رقم کو لے لینا اور اس کے خرچ سے اپنے طریق کے مطابق کوئی عبادت بجالانا مثلاً حج کرنے مکہ چلے جانا مسجد بنوانا یا قرآن کریم یا کسی اور دینی کتاب کی اشاعت و طباعت میں حصہ لینا منع نہیں۔یہ نیک کام کرنے والے مسلمان کو اپنی جگہ اس کی عبادت کا ثواب ملے گا اور جس نے نیک تعلقات کے پیش نظر رقم دی ہے اُسے بھی اس کا اجہ جس رنگ میں اللہ تعالیٰ چاہے گا دے گا۔ایک صحابی نہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جاہلیت میں میں نے جو اچھے کام کئے ہیں کیا اس کا بھی مجھے اجر ملے گا تو آپ نے فرمایا۔اسلام قبول کرنے کی سعادت اور توفیق انہی کاموں کا ہی نتیجہ ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اَدَ أَيْتَ أَشْيَاءَ كُنتُ اتَحَنَّتْ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ رَوْعِنَاتَةِ وَصِلَةِ رَحْمٍ فَهَلْ فِيْهَا مِنْ أَجْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتُ عَلَى مَا سَلَفَ مِنْ خَيْرٍ له ر اسی طرح ایک یہودی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں اپنے سات بہترین باغ وقف کئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول فرمایا۔اس کا نام مخبریق تھا۔ان کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : - مُخَيْرِيقُ سَائِقُ يَهُودَ - لَه یعنی مخیریق یہود میں سے سب سے آگے جانے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ کی اشاعت کے سلسلہ میں ایک سکھ رنگیس سے چندہ قبول فرمایا۔چنانچہ حضور نے اپنے ایک اشتہار مندرجہ براہین احمدیہ جلد چہارم یہ میں لکھا ہے :- : 147 ه :- بخاری : :- اصابه :