فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 340 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 340

۳۴۰ متفرق مسائل جب تک انسان مکہ مکرمہ میں مقیم رہے بیت اللہ کا بکثرت طوات کر سے زیادہ وقت عبادت اور ذکر الہی اور تلاوت قرآن کریم میں گزار ہے۔غار حرا و کی زیارت کی بھی کوشش کر رہے۔یہ غار مگر سے قریب تین میل کے فاصلہ پر پہاڑ کی چوٹی پر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعثت سے پہلے یہاں آکر عبادت کیا کر تے تھے۔اس غار میں ہی آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔غار ثور دیکھنے جا سکے تو وہ بھی دیکھے یہ مکہ سے پانچ میل کے فاصلہ پر ہے۔ہجرت کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محر سے نکل کر اسی غار میں تین دن روپوش رہے تھے۔قرآن کریم میں اس غار کا ذکر آیا ہے۔فرمایا :- ثاني ثنين إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَاك جبکہ وہ دونوں نمار میں تھے اور جبکہ وہ اپنے ساتھی رایونیکی) سے کہہ رہا تھا کہ کسی گذشتہ بھول چوک پر غم نہ کرو۔اللہ یقینا ہمارے ساتھ ہے۔مدینه منوره مدینہ منورہ میں بھی بہت سے شعائر اللہ میں مسجد نبوی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزار اقدس ہے۔جنت البقیع ہے۔اگر استطاعت ہو تو ان شعائر کی زیارت بھی کرنی چاہیئے میسجد نبوی ه : تو یہ : ۴۰ : شے :۔مکہ اور اس کے ارد گرد کا کچھ علاقہ حرم کہلاتا ہے۔اسی طرح مدینہ اور اس کی ارد گرد کے علاقے زیادہ میل کے قریب غیر سے لیکر تو تہ تک) حریم ہیں۔ان إِبْرَاهِيمَ حَمَلَةَ وَإِلَى حَرَّمْتُ المدينة - (ابن ماجہ باب فضل المدينة (۲۳) : ج عن إلى هريرة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال اللهمان ابراهيم خليلك ونبيك وانك حرمت مكة على لسمان ابراهيم اللهم وانا عبدك ونبيك والى احرم ما بين لابتيها دراین ناجیہ کما لینا الک باب فضل المدينه ها ، اللهم ان ابراهيم حرم مكة والى احدهم ما بين لابتيها - (مشكوة ص ۲۳) :