فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 339 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 339

۳۳۹ یاد رکھو کہ اللہ عذاب دینے میں رکبھی سخت ہے۔اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) مہربان بھی ہے۔احرام کی حالت میں طواف زیارت سے پہلے اگر اپنی بیوی سے مباشرت کر لے تو اس کا حج فاسد ہو جائے گا اور حج کے لئے اگلے سال آنا پڑے گا۔اس سال وہ حج کے بقیہ مناسک ادا تو کرے گا لیکن اس کا حج ادا نہیں ہو گا۔نیز بطور کفارہ اُسے منی کے مذبح میں اونٹ بھی ذبح کرنا پڑے گا۔احصار حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد اگر کوئی ایسی روک پیدا ہو جائے کہ وہ مکہ جانے اور حج یا عمرہ کے مناسک ادا کر نے کے قابل نہ رہے مثلاً سخت بیمار ہو جائے یا دشمن آگے جانے نہ دے تو ایسا محرم " صدی قربانی کا جانور ذبح کر سے اور اس کے بعد احرام کھوئے۔یہ مصری حریم میں ذبح ہونی چاہیئے۔اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے :۔فَإِنْ أَحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي : وَلَا تَحْلِفُوا رُؤسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدَى مَحِلَّهُ دل پھر اگر تم دکسی سب بے حج اور عمرہ سے، روکے جاؤ تو جو قربانی میسر آئے (ذبح کرو) اور جب تک کہ قربانی اپنے مقام پید نہ پہنچ جائے اپنے سر نہ مونڈو۔194: البقرہ :