فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 311
میں مقیم رہے اس لئے عبادت کی نیت سے چند منٹ کا قیام بھی اعتکاف ہوگا لیکن مسنون اعتکاف جو رمضان کے آخری عشرہ میں اختیار کیا جاتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ضروری یا طبعی حوائج کے علاوہ باقی کسی وجہ سے بھی مسجد سے باہر نہ نکلے اور ضروری حوائج میں کالج آکر سبق سننا شامل نہیں۔حدیث میں آتا ہے۔السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَلِفِ أَن لَّا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةٌ وَلَا يُبَاشِرَهَا وَ ا وَلا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لابد مِنْهُ - وَلَا اعْتَكَانَ إِلَّا بِصَوْمِ وَلَا اِعْتِكَافَ إِلَّا فِى مَسْجِدٍ جَامِعٍ - اسی طرح حضرت عائشہ فرماتی ہیں:۔" إِن كُنتُ لاَدْخُلُ البَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ تَمَا اسْاَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَةٌ له یعنی معتکف کے لئے مستون یہ ہے کہ وہ مریض کی عیادت کے لئے نہ جائے۔جنازہ میں شامل نہ ہو۔اپنی بیوی کے پاس نہ جائے۔مسجد سے انسانی حوائج پیشاب۔قضائے کے سوا باہر نہ جائے۔اعتکات کیلئے روزہ ضروری ہے۔اسی طرح اعتکاف الیسی میں بیٹھنا چاہئیے جہاں نما نہ باجماعت ہوتی ہو۔حضرت عائشہ نہ فرماتی ہیں۔سب بھی میں قضائے حاجت کے لئے گھر آتی اور گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو چلتے چلتے اس کی طبیعت پوچھ لیتی ، دھرنے کو رد نہیں سمجھتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیادت مریض کے جواز کے بارہ میں جو سکھا ہے اس کا بھی غالبا یہی مطلب ہے کہ ایسے رنگ میں عیادت جائز ہے۔سوال : اعتکاف کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟ خواہے :۔مسنون اعتکاف وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کے مطابق ہو در جوحد شوں سے ثابت ہے اور وہ یہ ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ آپ مسجد میں روزہ سے گزار نے اور حوائج ضروریہ کے علاوہ باقی کسی ضرورت سے مسجد سے باہر نہ آتے۔له : ابوداود كتاب الاعتكاف باب المعتكف يعود المريض م٣٣ : ه: ابن ماجد كتاب الصوم باب فى المعتكف يعود المريض - الخرص۔