فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 259 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 259

۲۵۹ جوا ہے :۔میت کے واسطے دُعا کرنی چاہئیے کہ خدا تعالٰی اس کے درجات کو بلند کرہ سے اور اگر اس نے کوئی قصور کیا ہے تو اس کے قصوروں اور گناہوں کو بخشے اور ان کے پسماندگان کے واسطے اپنے فضل کے سامان کر ہے۔سوال : - دُعا میں کونسی آیت پڑھنی چاہئیے ؟ جوا ہے :۔یہ تکلفات ہیں۔تم اپنی زبان میں جس کو بخوبی جانتے ہو اور جس میں تم کو جوش پیدا ہوتا ہے میت کے واسطے دُعا کرو۔اے سوال :۔قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب : قبر یہ ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنا جائز ہے ہے اور حدیث سے ثابت ہے حضرت امام بخاری اپنے در سالہ رفع الیدین میں یہ حدیث لائے ہیں :- عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاَرْسَلْتُ بَرِيرَةً فِي اثْرِهِ لِتَنْظُرَ ايْنَ يَذْهَبُ فَسَلَكَ نَحْوَ البَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَوَقَفَ فِي أَدْنَى الْبَقِيْعِ ثُمَّرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ انْصَرَنَ فَرَجَعَتْ بَرِيرَةُ فَاَخْبَرَتْنِي فَلَمَّا اصْبَحْتُ سَأَلْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ خَرَجْتَ اللَّيْلَةَ قَالَ بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيْعِ لِأَصَلَّى عَلَيْهِمْ؟ یعنی حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لے گئے۔اُنہوں نے اپنی خادمہ حضرت بریرہ کو پیچھے بھیجا کہ جا کر دیکھو حضور کد ھر جاتے ہیں۔چنانچہ بریرہ نے واپس آکر بتایا کہ حضور جنت البقیع گئے تھے اور وہاں حضور نے ہاتھ اُٹھا کر دعا کی۔صبح حضرت عائشہ ہو نے حضور سے پو چھا کہ آپ رات کس لئے باہر گئے تھے تو آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا تھا کہ میں جنت البقیع میں مدفون اپنے صحابہ کے لئے دعا کروں۔14۔4 : بدر شاه، فتاویٰ حضرت مسیح موعود هنا : ٥٣:- الفضل ١٨ مارچ۔سے :- (الف) مسلم باب ما يقال عند دخول القبر والدعاء لاهلها مكة (ب ) حاشیہ المنتقى من اخبار المصطفى ۳۳۵ مطبوعہ مطبع رحمانی دہلی ۳۳۴ده به